میرا سوال یہ ہےکہ میرے دوست کا صرف نکاح ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی تھی، اب چھ ماہ میں ہی اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو ایسی صورت حال میں وہ کتنا مہر دے گا ؟ آدھا یا پورا یا نہیں دے گا؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں آگاہ فرمائیں ۔ شکریہ
سائل کے مذکور دوست اور اس کی منکوحہ کے درمیان اگر واقعۃً خلوتِ صحیحہ بھی نہ ہوئی ہو تو اس صورت میں طلاق دینے سے اس پر نصف مہر کی ادائیگی لازم ہے، ورنہ پورے کی ۔
کما فی الدر المختار: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)۔اھ (3/104)