میری بیوی عالمہ ہے، وہ مدرسہ میں پڑھاتی ہے، جو کہ میرے گھر میں ترتیب دیا ہے، طلبہ کی تعداد سو ہے، مدرسہ بہت اچھا چل رہا ہے، میرے دو بیٹے ہیں، ایک نو سال کا، دوسرا چھ ماہ کا، میرا بڑا بیٹا جو چوتھی کلاس میں پڑھ رہا ہے اور گھر میں قاری صاحب سے حفظ کر رہا ہے، وہ قرآن کی پڑھائی میں توجہ نہیں دیتا، میری بیوی کے پاس بچوں کو دینے کیلئے زیادہ وقت نہیں ہے، میں سوچتا ہوں کہ میری بیوی مدرسہ کو بند کرے اور بچوں کی پرورش کرے، کیا یہ صحیح ہے؟
سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ کچھ وقت قرآن پڑھانے کیلئے مختص کرے اور کچھ وقت اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے، تاکہ دونوں کام احسن طریقے سے ہوتے رہیں، اگر اس طرح کرنا مشکل ہے تو اپنے ساتھ بطورِمعاون کوئی قاریہ رکھے تاکہ وہ بچوں کی پڑھائی کی طرف توجہ دے اور سائل کی بیوی اس کی نگرانی کرتی رہے، چنانچہ اس طرح کرنے سے گھر اور مدرسہ دونوں کا نظام ٹھیک ہو جائے گا اور مدرسہ بند کرنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔