میرے شوہر کی 9 سال کی بیٹی ہے میں اس کی ماں بنی جب وہ 5 سال کی تھی ، وہ 2.5 سال سے 5 سال تک اپنی دادی کی تربیت میں رہی پھر میری سرپرستی میں اس کے والد نے مجھے دیا اور دادی اپنے بہن بھائیوں کے مسائل میں مشغول رہی ، میں اسے مکمل طور پر ماں کی طرح خیال رکھتی تھی غلط بات پر بھی ڈانٹتی تھی جس سے وہ مزید خراب ہونے لگی 1 سال پہلے اس کے والد نے کہا اب مارنا چھوڑدے اب بچی 9 سال کی ہے ، اور مجھ سے بہت زیادہ بد تمیزی کرتی ہے ، اس کے والد 15 دن گھر پر نہیں رہتے ان دنوں وہ زیادہ تنگ کر تی ہے ، اور اب حال یہ ہے کہ مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا ہے دو بار ،کیا میں اس بچی کو اس کی دادی کے ساتھ چھوڑ کر الگ ہو جاؤں اور اس سے دوری کر لوں ؟تاکہ گھر کا ماحول مزیدخراب نہ ہو ،کیوں کہ اس کی دادی اس سے بہت زیادہ شہ دیتی ہے جس سے یہ ہم دونوں والدین سے دور ہوگئی ہے ، میں مزید برداشت نہیں کر سکتی ہوں ،تو کیا میں الگ ہو جاؤں ؟ مجھ پر اس بچی کی کتنی ذمہ داری ہونی چاہیئے؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کی سوتیلی بیٹی بلا کسی وجہ سائلہ سے بدتمیزی اور بد اخلاقی سے پیش آتی ہو تو اس کا مذکور طرزِ عمل نا مناسب اور غلط ہے ،بچی کے والد اور دادی وغیرہ کو چاہیئے کہ بچی کو سمجھاکر مذکور طرزِ عمل سے باز رکھنے کی کوشش کریں ، چنانچہ اگر وہ اپنے رویے اور طرزِ عمل سے باز آجائے تو سائلہ کو چاہیئے کہ اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے اپنی حقیقی اولاد کی طرح اسکی دیکھ بھال اور تربیت کرتی رہے، لیکن اگر سمجھانے کے باوجود وہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائلہ علیحدہ رہائش بھی اختیار کرسکتی ہے۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ:(سئل)فی رجل اسکن زوجتہ فی مسکنہ الشرعی ولھا ابناء کبار من غیرہ ساکنون معھا بلا اذنہ ویرید منعھم من السکنی فی مسکنہ المذکور فھل لہ ذلک (الجواب) نعم وکذا تجب لھا السکنی فی بیت خال عن اھلہ سوی طفلہ الذی لا یفھم الجماع وامتہ وام ولدہ واھلھا ولو ولدھا من غیرہ الخ(ج 1 ص 83 )۔