کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی، جس کے بعد مطلقہ عورت اپنی بیٹی کو لیکر شوہر سے الگ ہو گئی، علیحدگی کے بعد بچی کے والد نے دو سال تک بچی کا خرچہ نہیں دیا، البتہ بعد میں دینا شروع کر دیا، اب بچی کی عمر تقریباً چودہ سال ہے اور دوبارہ انہوں نے خرچہ دینا بند کر دیا ہے، جبکہ بچی کے پاس ذاتی طور پر اخراجات کے وسائل بھی نہیں، تو اس صورت میں اس بچی کا خرچہ کس کے ذمہ لازم ہوگا؟ اگر اس کے والد کے ذمہ لازم ہے، تو کب تک اور کس قدر اخراجات والد کے ذمہ لازم ہوں گے ؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کر کے عنداللہ ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ مذکور لڑکی کی شادی تک اس کا نان نفقہ اس کے والد کے ذمہ اس کی وسعت کے بقدر لازم ہے ، جبکہ شادی کے بعد شوہر کے ذمہ لازم ہوگا ۔
كما في الدر المختار : (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني الخ (باب النفقة ، ج 3، ص 614 ، ط : سعيد )-
وفي رد المحتار تحت (قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه الخ ( مطلب الصغير والمكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه، ج 3، ص 614 ، ط : سعيد )-
و في فتاوى قاضي خان : وفي ظاهر الرواية : البنت البالغة والغلام البالغ الزمن بمنزلة الصغير نفقته على الأب خاصة وأب الأب عند عدم الأب في النفقة بمنزلة الأب الخ ( فصل في نفقة الأولاد، ج 3، ص 37، ط : رشيدية )-
وفي الفتاوى الهندية : وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة الخ( الفصل الرابع في نفقة الأولاد ، ج 1، ص 560 ، ط : دار الفكر،بيروت)-