السلام علیکم ! میرا سوال ہمارے والد صاحب کے متعلق ہے ، ان کا رویہ ہمارے ساتھ ان کی دوسری شادی کے بعد بالکل تبدیل ہو گیا ہے، وہ اپنی تمام مالی تفصیلات بچوں سے چھپاتے ہیں ، ان پر بھروسہ نہیں کرتے جیسے پہلے کرتے تھے ، یہاں تک کہ اپنی پہلی مرحومہ بیوی کے متعلق کافی بری بری باتیں بھی کہیں ، جو کہ ہمیں بالکل پسند نہیں آئی ، اس طرح کی اور باتوں کی وجہ سے ہمارے درمیان دوری آگئی ہے ، براہ ِ مہربانی ہمیں بتائیں کہ اس حالت میں والد کے ساتھ کیسا سلوک کریں ہم ؟، جبکہ وہ بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے ہم سے ، کیا حکم ہے اس حالت میں اولاد کے بارے میں ؟ جزاک اللہ خیر۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کے والد کا دوسری شادی کے بعد اپنے بچوں سے بے رخی اختیار کرنا انہیں نظرانداز کرکے ان سے قطع تعلقی اختیار کرنا اور بچوں کی والدہ ( یعنی اپنی مرحومہ بیوی )کے متعلق بری اور ناشائستہ باتیں کرنا قطعاً درست نہیں ، انہیں اپنے مذکور طرزِ عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ، جبکہ سائلہ اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کا والد صاحب کے مذکور رویے کے وجہ ان کی بے اکرامی بے ادبی یا حق تلفی کرکے والد صاحب کی دل آزاری کا سبب بننا بھی درست نہیں ، بلکہ ان کو چاہیئے کہ والد صاحب کے حقوق اور ادب و احترام کا بھرپور اہتمام کریں، انشاء اللہ امید ہے کہ یہ ان کی خوش بختی اور سعادت مندی کا ذریعہ ہوگا ۔
كما قال الله تعالى : و قضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه و بالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لها أف و لا تنهرها و قل لهما قولا كريما ( سورة بنى إسرائيل، الآية : ٢٣ )-
و في صحيح البخاري : عن عبد اللہ بن عمرو رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الكبائر الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و اليمين الغموس (باب اليمين الغموس ، ج 6 ، ص 2456 ، رقم : 6297، ط : دار ابن كثير)-
و في فتح الباري بشرح صحيح البخاري : و العقوق بضم العين المهملة مشتق من العق و هو القطع و المراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد وضبطه ابن عطيه بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا و تركا واستحبابها في المندوبات و فروض الكفاية كذلك و منه تقديمهما عند تعارض الأمرين. و هو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن استمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك لو تركها و فعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة الخ ( باب بالتنوين قوله عقوق الوالدین ، ج ۱۰، ص 406 ، ط : المكتبة السلفية ، مصر )- والله أعلم
و في المستدرك على الصحيحين : عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن رجلا ذكر أبا العباس فنال منه فلطمه العباس فاجتمعوا فقالوا: والله لنلطمن العباس كما لطمه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب، فقال: «من أكرم الناس على الله؟» قالوا: أنت يا رسول الله، قال : « فإن العباس مني، وأنا منه لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا به الأحياء» ( ذكر إسلام العباس رضي الله عنه، واختلاف الروايات في وقت إسلامه ، ج 3، ص 371 ، رقم : 5421 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في مسند أحمد : عن عبد الله، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سباب المسلم أخاه فسوق، وقتاله كفر ( مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه، ج 7 ، ص 296 ، رقم : 4262 ، ط : مؤسسة الرسالة)-