کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی عبادت کا ثواب برابر ہے یا شادی شدہ کی عبادت کا ثواب زیاد ہے؟ نیز کوئی شخص اپنی بیوی بچوں پر خرچہ کرتا ہے تو آیا اس کو اس کا اجر ملتا ہے؟ مدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے بلاشبہ آدمی مستحقِ اجر ہوتا ہے جبکہ بعض کمزور روایات میں اس کی وضاحت ملتی ہے کہ شادی شدہ کی عبادت کا ثواب غیر شادی شدہ کی عبادت کے ثواب سے زیادہ ہے۔
فی کنز العمال : رکعتان من المتزوّج أفضل من سبعین رکعۃ من العزب۔(ج۱۶، ص۱۱۸)۔
رُوِیَ عن جابرؓ عن النبی ﷺ قال : أوّل ما یوضع فی میزان العبد نفقتہٗ علٰی أہلہٖ۔(الترغیب والترہیب: ج۳، ص۶۴)۔
و فی الترغیب والترہیب : و عن سعد ابن وقاصؓ أن رسول اﷲ ﷺ قال لہ و إنک لن تنفق نفقۃ تبتغی بہا وجہ اللہ إلّا أجرت علیہا حتی ما تجعل فی فی إمرأتک(ج۳،ص۱۶۲)۔
و فی الترغیب والترہیب : و عن ابی ہریرۃؓ قال : قال رسول اﷲ ﷺ دینار أنفقتہ فی سبیل اﷲ، ودینار أنفقتہ فی رقبۃ، دینار تصدقت بہٖ علی مسکین ودینار أنفقتہ علی أہلک، أعظمہا أجرًا ألّذی أنفقتہ علٰی اہلک۔ ( ج۳، ص۶۱)۔