السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
ایک شخص کی عمر اس وقت 23 سال ہے، اور وہ گزشتہ 5 سال سے شادی کی خواہش رکھتا ہے۔ اس نے اپنے والدین، خصوصاً والد (جو خود ایک مفتی ہیں)، سے کئی بار درخواست کی کہ میری شادی کروا دی جائے تاکہ میں گناہوں سے بچ سکوں۔
لیکن والد صاحب ہر بار یہی کہتے ہیں کہ:
“ہمارے خاندان میں شادی 24 یا 25 سال کی عمر میں ہوتی ہے، جب بڑے کہیں گے تب کریں گے۔”
اب صورتحال یہ ہے کہ:
اس سے شہوانی جذبات برداشت نہیں ہو رہے۔
اس نے والدین سے صاف کہا ہے:
“اگر مجھ سے کوئی گناہ ہوا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔”
والد صاحب اس پر جواب دیتے ہیں:
“موبائل چھوڑ دو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
اور جب وہ زیادہ اصرار کرتا ہے تو والدین ناراض ہو جاتے ہیں۔
حال ہی میں اس کے بڑے بھائی کی شادی بھی ہوئی ہے، حالانکہ وہ خود اس شادی کے حق میں نہیں تھا۔
اب وہ شخص کہتا ہے کہ:
“مجھے کسی بھی طرح گناہ سے بچنا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مجھے شرعی طور پر بتایا جائے کہ میری حالت میں میری شادی کا کیا حکم ہے؟”
❓ سوالات:
کیا اس موجودہ کیفیت میں اس پر نکاح فرض ہے؟
اگر اس نے والدین سے کہا کہ "اگر مجھ سے کوئی گناہ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے"، تو کیا یہ کہنا شرعاً درست ہے؟
اگر والدین بلا شرعی وجہ تاخیر کریں اور بار بار کہنے پر بھی ناراض ہوں، تو وہ شخص کیا کرے؟
برائے کرم ان سوالات کا شرعی اور مدلل جواب عطا فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ نکاح انسان کی ایک ناگزیر طبعی ضرورت ہے اور اگر آدمی پر اس قدر غلبہ غلبہ شہوت ہو کہ کسی حرام کام میں مبتلا ہونے کا غالب گمان ہونے لگے اور وہ نکاح کے لیے مہر و نفقہ کی ادائیگی پر از خود قادر بھی ہو تو اس پر نکاح کرنا فرض اور ضروری ہو جاتا ہے البتہ اگر از خود مہر اور نان نفقہ پر اس کو قدرت نہ ہو، تو ایسی صورت میں حتی المقدور اپنے کو خود کفیل اور نکاح کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ دفعہ شہوات کے لیے مسلسل روزے یا نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا لازم ہوتا ہے لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل خود اپنے مہر کی ادائیگی اور نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو تو از خود اپنا نکاح کرے ۔اور اگر وہ قادر نہیں ہے اور والدین بھی ابھی اس کا نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں محض والدین کو مسلسل ملامت اور مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہے بلکہ سائل کو چاہیے کہ مسلسل روزے رکھے یا نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے دیگر موجب فتنہ امور مثلا اسمارٹ فون وغیرہ سے دوری اختیار کرے تا ہم والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے بالغ بیٹے کی حتی المقدور جلد از جلد شادی کرانے کی فکر کرے اور اگر وہ بلا وجہ اس میں تاخیر کرتے ہیں تو یہ شرعانامناسب عمل ہے جس سے اجتناب چاہیے۔
كما في مشكاه المصابيح :عن ابي سعيد وابن عباس قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فاذا بلغ فليزوجه فان بلغ ولم يزوجه فأصاب اسما فانما إسمه على أبيه".(ج:2،باب الأولى فى النكاح،ص:271،مط: قد يمى كتب خانه).
وفي مرقات المفاتيح في شرح هذا الحديث: (فانما إثمه على ابيه):أى جزاء اثمه عليه لتقصيره، وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتاكيد، قال الطيبي رحمه الله: اي جزاء الاثم عليه حقيقة ودل هذا الحصر على ان لا إثم على الولد مبالغة لانه لم يتسبب لما يتفادى ولده من إصابةالاثم..(ج:6،ص:300،مكتبةحقانية).
وفي الدر المختار :(ويكون واجبا عند التوقان) فان تيقن الزنا الا به فرض نهاية. وهذا إن ملك المهر والنفقة والا فلا اثم بتركه بدائع.(ج:3،ص:6،كتاب النكاح،مط:ایچ ایم سعید کراچی).