سوتیلے بہن بھائیوں کے آپس میں کیا حقوق ہیں اس حال میں کہ باپ اپنا سارا خرچہ دوسری فیملی پر خرچ کرتا ہو اور پہلی فیملی سے کہتا ہے کہ تمہیں قابل بنا دیا ہے اس لیے اب دوسری فیملی پر خرچہ ضروری ہے ۔
ساتھ ہی اگر باپ بوڑھاپے کی وجہ سے پہلی اولاد کو دوسری فیملی کے بچوں کا بوجھ اٹھانے کو کہے تو اسکا کیا حکم ہوگا، ہم نے سنا ہے کہ آدمی پر پہلہ حق اسکی بیوی کا پھر اولاد کا پھر والدین کا اور پھر نابالغ بہن بھائیوں کا، تو کیا پہلی اولاد کو اپنے سوتیلے بہن بھائی کی کفالت لازم ہے جبکہ انکے والدین زندہ ہوں۔
واضح ہو کہ مرد کے لیے بیک وقت ایک سے چار تک عورتو ں کے ساتھ شادی کر نے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ ان عورتوں کے نان و نفقہ اور ان کے درمیان عدل اور برابر ی کر نے پر قادر ہو ،اسی طرح ایک والد کے ذمہ اسکی اولاد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس وقت تک لازم ہو تی ہے کہ جب تک وہ خود کما نے کے قابل نہ ہو جائے ،لہذا اگر سائل اور اسکے حقیقی بھائی اپنی زندگی کے اس مرحلہ تک پہنچ چکے ہوں کہ وہ خود کما سکتے ہوں تو ان کے خرچ و اخراجات شرعا والد کے ذمہ لازم نہیں ہوں گے ،بلکہ والد زندگی کے اس موڑ پر ہو کہ اسپر اسکے چھوٹے بچوں کے اخراجات کا بوجھ ہو اور وہ خود کما نے سے عاجز ہو تو ایسی صورت میں والد کی اتباع اور حقوق کی ادائے گی کر تے ہوئے دیگر نابالغ اولاد کا نان ونفقہ سائل اور اسکےدیگر بھائیوں کےذمہ حسب وسعت لازم ہو گا لیکن اس کی وجہ سے اپنی بیوی بچوں کی حق تلفی کر نا جائز نہیں بلکہ متوازن انداز سے سب کے حقوق کی ادائےگی کا اہتمام ضروری ہے۔
وکما فی مجمع الانہر ویجب علی الموسر ایضا نفقۃ کل ذی رحم محرم قرابۃ منہ لایجوز التناکح بینھما ( باب النفقۃ ج :1 ص:500 ناشر دار احیاء الثرات العربی)
وفی فتح القدیر والنفقۃ لکل ذی رحم محرم اذا کان صغیرا لوکانت امراۃ بالغۃ او کان زکرا بالغا فقیرا زمنا فی القرا بۃ القریبۃ واجبۃ ( باب النفقۃ ج: 4 ص: 224 ناشر رشیدیہ)
وفی رد المختار وتجب النفقۃ بانواعھا علی الحر لطفلہ ( باب النفقۃ ج:3 ص: 216 ناشر سیعد)
وفیہ ایضا ھو الولد حین یسقط من بطن امہ الی ان یحتلم (ج:3 ص: 216 نا شر سعید)
وفی البنایۃ والنفقۃ لکل ذی رحم محرم اذاکان صغیرا او کان ذکرا با لغا زمنا لان الصلۃ فی القرابۃ القریبۃ واجبۃ (باب النفقۃ ج: 5 ص : 704 ناشر دار کتب العلمیۃ)۔