کیا فر ماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ دینِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی اپنے باپ سے بالکل سرمایہ وغیرہ میں علیحدہ ہے ؟ اب باپ نے اپنے لڑکے سے قرض لیا، دو گواہوں کے سامنے، مجھے قرض دے دو چھ مہینے کے بعد میں آپ کا قرض ادا کرونگا اگر قرض ادا نہیں کیا تو اپنی تمام موروثی زمین دے دونگا ؟ اب مدت پوری ہونے کے بعد باپ نے زمین لڑکے کو دے دی اور لڑکے نے قبول کر لی ؟ اس کے بعد باپ نے یہی زمین ایک اور شخص کو قیمت پر دے دی اور اس کے لڑکے نے اس خرید ار کو اطلاع دی کہ یہ زمین میری ہے، میرے باپ کی نہیں، لیکن اس خریدار نے زمین خرید لی اور باپ نے زمین خریدار پر فروخت کی ؟ اب سوال یہ ہے کہ وہ لڑ کا باپ کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا؟ کیا زمین خریدار کی ہو گی یا اس کے بیٹے کی ؟
جب سائل کے والد نے مذکو ر موروثی زمین قرض کے بدلہ میں مالکانہ قبضہ کے ساتھ اسے دے دی تھی تو وہ زمین سائل کی ملکیت ہے، اس کے بعد سائل کے والد کا کسی دوسرے شخص پر سائل کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا شرعاً درست نہیں اور یہ بدستور سائل کی ملک رہے گی ، تاہم سائل کیلئے اپنے والد کیساتھ حسنِ سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ سائل اپنے قرض کے بقدر لینے کے بعد بقیہ زمین اپنے والد کے حوالہ کر دے یا پورا قرض ہی اسے معاف کردے۔
قال اللہ تعالیٰ: وبالوالدین احسانا (البقرۃ: 83)۔
وفی تفسیر المظھری: والاحسان بھما البر بھما والعطف علیھما وامتثال امرھما ما لم یخالف امر اللہ تعالیٰ (1/89)۔
وفی مقام آخر: یاایھا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔(النساء:29)
وفی سنن الدار قطنی: عن انس بن مالك ان رسول اللہ ﷺ قال: لایحل مال امری مسلم الا بطیب نفس منہ(3/424)
وفی سنن البیھقی: عن سعید بن زید مرفوعاً: من اخذ شبرا من الارض یعنی ظلما طوقہ الیٰ سبع ارضین (6/163)۔