السلام علیکم،جناب مفتی صاحب مجھے آپ سے ایک گزارش ہے کہ شریعت کے حساب سے اگر میری بیٹی کو چوتھے مہینے میں حمل کے اُسکے شوہر نے اسکو طلاق دے دی تھی اور اسکا نان نفقہ بھی نہیں دیتا تھا،بچہ کی ولادت پر بچہ کا باپ اسکو دیکھنے آیا تھا اُس وقت ہم نے اُن سے بچے کو لینے کے لیے کہا تو انہوں نےمعذرت کی کہ بچہ کو کوئی پال نہیں سکے گا، بچہ کی ماں اور نانی سنبھال لے، اب چونکہ بچہ 21 مہینے کا ہو گیا ہے تو بچے کا باپ تقاضہ کر رہا ہے بچے کاکہ یہ میرا بچہ ہے مجھے واپس لوٹا دو ،دودھ کی مدت پوری ہو چکی ہے،جبکہ نہ وہ نان نفقہ دیتا تھا، نہ وہ بچہ کی ماں کو کچھ دیتا تھا، اور طلاق کے دو تین مہینے بعد اُس نے شادی کرلی تھی،اب شریعت کیا کہتی ہے کہ آیا کہ بچہ باپ کے پاس جائے گا یا ماں کے پاس رہےگا؟ اور اگر ہم اپنی بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو بچہ کس کی کفالت میں ہوگا نانی یا والد ؟ اور اگر بچہ شریعت کے حساب سے ہمارے پاس رہے تو اسکا نان نفقہ کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجانے کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کی حقدار اس کی ماں ہے، بشرطیکہ بچے کی ماں اس دوران اس بچے کے کسی غیرذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور بچہ کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کی زیادہ حقدار اس کی ماں ہی ہے ،تاہم اگر سائل اپنی بیٹی کا نکاح اس بچہ کے کسی غیر ذی رحم محرم سے کرالے تو اس سے ماں کا حق پرورش ختم ہوکر نانی کو حاصل ہوگا،البتہ مذکور مدت کے بعد اگر والد اس بچہ کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے، اور اس دوران بچہ کی پرورش پر آنے والے تمام تراخراجات والد کے ذمہ اس کی وسعت کے مطابق لازم ہوں گے،لہذا مذکور مدت سے پہلے باپ کا اپنے بچہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں،البتہ اس دوران وہ اپنے بچہ سے ملنا چاہے تو ماں یا نانی کے لئے ملاقات سے روکنا شرعاً جائز نہیں،جس سےاحتراز لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ : والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمدرحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح اھ(باب فی الحضانۃ،ج1،ص542،ط:ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة(فصل فی نفقۃ الاولاد،ج1،ص560،ط:ماجدیہ)۔