میرے والد نے میری طلاق شدہ والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی کی تھی اور اس دوسری بیوی سے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں اور میری پرورش میری والدہ نے کی ہے اوراس دوران میں نے اپنے والد سے کبھی بھی رابطہ نہیں کیا، اب میرےوالد نے اپنی تمام جائیداد میرے سوتیلے بھائیوں کو دے دی ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مجھے اپنا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟ میرے مرحوم والد کی طرف سے حصہ داری کا، حالانکہ انہوں نے اسے دوسری بیوی کے بچوں کو بطور گفٹ دیا ہے۔
سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں اپنی تمام جائیداد کا بٹوارہ کرکے ساری جائیداد سائل کے سوتیلے بھائیوں میں تقسیم کی ہو اوربلا کسی عذر کے سائل اور اس کی سوتیلی بہنوں کو محروم کرکےان کی دل آزاری اور ایذا رسانی کا سبب بنا ہو تو اس کا ایسا کرنا اگرچہ شرعاً جائز نہیں تھا ، جس کی وجہ سے وہ گناہگار ہوا ہے ، جس پر اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیئے تھا اور اب اگر والد کی ملکیت کچھ موجود ہو تو اس میں سے سائل اور اس کی سوتیلی بہنوں کو حصہ دیکر اس کی تلافی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، تاہم اگر والد نے یہ جائیداد سائل کے سوتیلے بھائیوں کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ کر دیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کا ہر سوتیلا بھائی اپنے حصے کا مالک بن چکا ہے ، سائل اور اس کی سوتیلی بہنوں کے لئے اپنے بھائیوں سے ابھی اس جائیداد میں حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا -
بصورتِ دیگر اگر سائل کے والد نے مذکور جائیداد فقط سائل کے سوتیلے بھائیوں کے نام کی ہو ، انہیں اس جائیداد پر مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کے سوتیلے بھائی اس جائیداد کے مالک نہ ہوں گے ، بلکہ ساری جائیداد بدستور والد صاحب کی ملکیت ہی ہوگی اور والد کی وفات کی صورت میں اس کے اس وقت موجود تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصص ِشرعیہ تقسیم کی جائے گی ۔
كما في المصنف لابن أبي شيبة : عن النعمان بن بشير قال : أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه و سلم قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك. قال أعطيت كل ولدك مثل هذا ؟ قال : لا ، قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (وفي رواية أخرى قال فاردده) (مسألة العدل بين الأولاد ، ٧، ص 278، ط: دار التاج لبانن، بيروت)-
و في الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى و لو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم (كتاب الهبة ، ج ۵، ص 696، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : ( وتتم ) الهبة ) بالقبض ) الكامل الخ. (كتاب الهبة ، ج 5، ص 690، ط : سعید)-
وفي بدائع الصنائع : وأما حكم الهبة ( إلى قوله) أصل الحكم ثبوت الملك للموهوب له من غير عوض الخ (ج 6، ص 127، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ( إلى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة (كتاب الهبة ، ج 7 ، ص 288، ط : ماجدية)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله إلا أن يصطلحا ) إن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث الخ (كتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ۷6۹ ، : سعید)-
و فيه أيضا : تحت ( قوله هي علم بأصول الخ ) وشروطه ثلاثة : موت مورت حقيقة أو حكما ( إلى قولہ) و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کا لحمل الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص 758 : سعید)-