مولانا صاحب ! ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی پراپرٹی کا بٹوارہ کر دیا تھا ، اور ساری پراپرٹی اپنے دونوں بیٹوں کے نام کر دی اور ہم 5 بیٹیوں کو محروم رکھا ، اور ہم سے بولا گیا کہ ہم نے پراپرٹی بیٹوں کو گفٹ کر دی ہے ، اب آپ لوگوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ، تو کیا یہ جائز ہے ؟ اب ہم بہنیں اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہیں ؟
سائلہ کے والد مرحوم نے اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا بٹوارہ کرکے ساری جائیداد اپنے بیٹوں میں تقسیم کی ہو اور بلا کسی معقول وجہ کے بیٹیوں کو محروم کرکےان کی دل آزاری اور ایذاء رسانی کا سبب بنا ہو تو اس کا ایسا کرنا اگرچہ شرعاً جائز نہیں تھا ، جس کی وجہ سے وہ گناہگار ہوا ہے ، جس پر اسے توبہ و استغفار اور اب اگر والد کی ملکیت میں کچھ موجود ہو تو اس میں سے بیٹیوں کو حصہ دیکر اس کی تلافی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، تاہم اگر والد نے یہ جائیداد دونوں بیٹوں کے درمیان باقاعدہ طورپر تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ کر دیا ہو ، تو ایسی صورت میں ہر بیٹا اپنے اپنے حصے کا مالک بن چکا ہے ، سائلہ اور اس کی بہنوں کے لئے اپنے بھائیوں سے ابھی یا والد مرحوم کی وفات کے بعد اس جائیداد میں حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا ، البتہ اگر سائلہ کے والد نے مذکور جائیداد فقط اپنے دونوں بیٹوں کے نام کی ہو ، انہیں اس جائیداد پر مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً دونوں بیٹے اس جائیداد کے مالک نہ ہوں گے ، بلکہ ساری جائیداد بدستور والد صاحب کی ملکیت ہی ہوگی اور والد کی وفات کے بعد اس کے اس وقت موجود تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائے گی ۔
كما في المصنف لابن أبي شيبة : عن النعمان بن بشير قال : أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه و سلم قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك. قال أعطيت كل ولدك مثل هذا ؟ قال : لا ، قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (وفي رواية أخرى قال فاردده) (مسألة العدل بين الأولاد ، ٧، ص 278، ط: دار التاج لبانن، بيروت)-
و في الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى و لو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم (كتاب الهبة ، ج ۵، ص 696، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : ( وتتم ) الهبة ) بالقبض ) الكامل الخ. (كتاب الهبة ، ج 5، ص 690، ط : سعید)-
و فيه أيضا : ( ويمنع الرجوع فيها ) حروف (دمع حزقة) (إلى قوله) (والقاف القرابة فلو وهب لذي رحم محرم منه ) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع الخ (باب الرجوع في الهبة ، ج 5، ص 699، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ( إلى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ( كتاب الهبة ، ج 7 ، ص 288، ط : ماجدية)-