السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص میرے گھر قرآن کریم لے کر آتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ تم یہ رشتہ توڑ دو اور جبکہ وہ میرا رشتہ صحیح چل رہا ہے ،ایسا سمجھ لیں کہ باپ اگر اپنی بیٹی کو قرآن دے اور کہے کہ اپنے ہنستے ہنستے گھر کو چھوڑ دو کیوں کہ میری ان لوگوں سے نہیں بنتی، کیا بچی کو اپنے گھر کو قرآن کے لئے چھوڑ دینا چاہئیے ؟بچی بلکل خوش ہے اپنے میاں کے ساتھ , اور اُسکا والد یہ صرف اپنی انا کی خاطر کر رہے ہیں ،آپکے جلد جواب کا انتظار رہے گا،شکریہ!
سائل نے سوال میں وضاحت کیساتھ اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ والد اپنی بیٹی سے مذکور رشتہ ختم کرانے اور شوہر کا گھر چھوڑنے کا خواہش مند کیوں ہے کیا فقط " انا" کا مسئلہ ہے یا اسکے علاوہ دیگر وجوہات ہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر بیٹی اپنے شوہر کیساتھ سسرال میں ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہی ہو، اس رشتے کو توڑنے اور ختم کرنے کا کوئی شرعی معقول عذر بھی نہ ہو تو والد کا فقط اپنے " انا" کی وجہ سے بیٹی کو قرآن کریم کا واسطہ دیکر اس کا ہنستا بستا گھر برباد کرنا غیر دانشمندانہ عمل ہے،جس سے اس کو اجتناب اور بیٹی کا گھر بسانے کی کوشش کا اہتمام کرنا چاہئیے جبکہ بیٹی کو بھی چاہیئے کہ حکمت وبصیرت کیساتھ کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار کرئے کہ جس سے میاں بیوی کا رشتہ بھی برقرار رہے اور والد کی ناراضگی اور دل آزاری بھی نہ ہو ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اسکی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کردے تو اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کما قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ الآیۃ (آیتـ 2 سورۃ المائدۃ)
وفیھا ایضاً: عن معاذ رضی اللہ عنہ قال أوصانی رسول اللہ ﷺ بعشر کلمات، قال لا تشرک باللہ شیئا وأن قتلت أو حرقت ولا تعقن والدیک وإن أمراک أن تخرج من أھلک ومالک الخ قال الملاعلی قاری: قال ابن حجر شرط للمبالغۃ باعتبار الاکمل أیضاً (إلی قولہ) اما باعتبار اصل الجواز، فلا یلزمہ طلاق زوجۃ امرأۃ بفراقھا الخ (کتاب الإیمان ج 1 صـ 235 ط: حقانیۃ)