کیا ریٹائرڈ منٹ کے واجبات کی رقم کا اولاد کے علم میں لانا ضروری ہے ؟اور یہ رقم کہاں انویسٹ کی، یہ اولاد کو بتانا لازمی ہے ؟ اگر نہ بتانے پر اولاد ناراض ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟براہِ مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیا جائے ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح جائز تصرف کرنا چاہے،کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعا ً لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے، بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا درست ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے مال کے متعلق اولاد کو بتانا شرعاً ضروری نہیں،بلکہ وہ اپنے مال میں خود مختار ہے، لہذا والد کے نہ بتانے پر اولاد کا ناراض ہونا بھی شرعاً جائز اور درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر والد کا اپنے معاملات سے اولاد کو لاتعلق اور بے خبر رکھنے کی وجہ سے بعد میں ورثاء میں وراثت کی تعیین کے اندر نزع کا اندیشہ ہو تو کسی تحریر وغیرہ کے ذریعے اپنے معاملات اور لوگوں کے ذمہ قرض اور واجبات واضح کردینے چاہیے ۔
کما في درر الحكام: للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء و ليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره۔اھ (1/559)۔