میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے والد محترم گورنمنٹ ٹیچر (۱۷) گریڈ میں ریٹائر ہوئے ہیں ، ہمارے والدِ محترم تقریباً ۲۰ سال سے ہر سال ۴۰ دن تبلیغی جماعت کے لئے جاتے ہیں، ایک بار ۴ مہینے کے لئے بھی گئے تھے ، ایک بار باہر ملک بھی گئے ہیں ، سال میں ۳ دن کے لئے بھی اکثر جاتے ہیں ، اب ہمارے والد محترم ایک سال کے لئے کینیڈا جانا چاہتے ہیں ، ہم ۷ بہن بھائی ہیں اور جو ہماری سب سے چھوٹی ہے وہ بہن ہے، اور سب سے چھوٹی بہن بھی شادی کے قابل ہے، لیکن ابو نے ابھی تک ہماری بڑی بہن کی شادی بھی نہیں کی ، جس کی عمر ۳۰ سال سے زیادہ ہے ، ہمارے صرف بڑے بھائی کی شادی ہوئی ہے جو سب سے بڑا ہے ، اور ہمارا ایک بھائی جو سب سے بڑے سے چھوٹا ہے وہ بیمار ہے اس کی نظر کمزور ہے اس کا مینٹل اسٹیٹ بھی اچھا نہیں ہے ، ہماری سب سے بڑی سے چھوٹی بہن بھی بیمار ہے ،جس کی رپورٹ بھی ہم دکھا سکتے ہیں، لیکن ہمارے والد محترم ان کو ڈاکٹر سے چیک نہیں کرواتے ,کہتے ہیں اسلام میں غیر مرد ڈاکٹر سے نہیں چیک کروانا چاہتے، ہم ابو سے چوری چھپے ان کا چیک اپ کرواتے ہیں، اور ہمارے دادا ابو پچھلے ۲ سال سے بیڈ پے ہیں ،ان کا کوئی پتہ نہیں ہے، دنیا سے کب رخصت ہو جائے ،ان کی حالت بہت نازک ہے، اور تقریباً ۱۲ لاکھ قرض دینا ہے، ابو جو چھوڑ کر جارہے ہیں، ہم نے ابو سے اس بارے میں بات کرنے کی کئی بار کوشش کی ہے لیکن وہ ہماری بات ہی نہیں سنتے، اور امی پر تشدد کرتے ہیں اگر وہ کوئی بات کرے ۔
آپ بتائیں کہ ان حالات میں ابو کو ایک سال کے لئے تبلیغ کے لیے جانا چاہیئے یا نہیں ؟ یا اس سے پہلے بہتر یہ ہے کہ بڑی بہنوں کی شادیاں کر لیں، اور قرض بھی اتار دیں، اور دادا ابو جو بیڈ پے ہیں ۲ سال سے ان کی خدمت کریں۔ یہ کام پہلے کر لے اس کے بعد چلے جائیں ؟
سائل کے والد کا تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک رہ کر اعمال کی پابندی کرنا پسندیدہ عمل ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ اس کی وجہ سے سائل کے والد کے ذمہ واجب الادا حقوق میں کو تاہی نہ ہو ، لہٰذا سائل کے دادا کی خدمت اور دیکھ بھال کے لئے اگر کوئی اور شخص موجود نہ ہو ، یا بیرون ملک سال پر جانے کی وجہ سے بچوں کو نان و نفقہ کیوجہ سے دشواری کا سامنا ہو ،یا ان کی شادیاں نہ کرنے کیوجہ سے ان کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو سائل کے والد کو تبلیغ میں سال لگانے کے بجائے واجب حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیئے ،اور مقامی طور پر تبلیغ کا کام کرتے رہنا چاہیئے ۔
وفي الفتاوى الهندية: إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة اھ (5/ 365)۔