اولاد کے حقوق

عبادت گزار ہونے کے ساتھ گھر والوں کو اذیت دینے والی ساس کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
77969
| تاریخ :
2024-09-09
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / اولاد کے حقوق

عبادت گزار ہونے کے ساتھ گھر والوں کو اذیت دینے والی ساس کا کیا حکم ہے؟

میری بیوی ایک عبادت گزار، تہجد، تلاوت، ذکر و وظائف کی نہایت پابند عورت ہے، جس پر مجھے رشک آتا ہے کہ کاش مجھے بھی یہ توفیق حاصل ہو، لیکن ساتھ ہی اس پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بہوؤں کے ساتھ انتہا ئی سخت رویہ رکھتی ہے،بد کلامی، طعنے اور طلاق تک کی دھمکیاں دیتے رہنا اس کا معمول ہے، ایک بہو جو وہ اپنی پسند سے لیکر آئی تھی، اسے بھی نہیں بخشا، اور بلآخر اس کو بیٹے سے تین طلاقیں دلوا کر چھوڑا، پھر وہ بیٹا کچھ عرصہ بعد اہل حدیث سے فتوی لیکر دوبارہ اپنی بیوی کو گھر لے آیا، اور اب وہ حرام کی زندگی گزار رہے ہیں، جس پر میں نے غم اور غصہ سے اس بیٹے سے بول چال بند کر رکھی ہے، اور اس گھر میں اس کی ماں کے پاس بھی آنا جانا کم ہی ہوتا ہے، اسی طرح اب دوسرے بیٹے سے بھی طلاق دلوانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اسے ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن مجھ پر وہ اس لئے حاوی ہےکہ بیٹے اس کی مٹھی میں ہیں،اور وہ اس بات پر بھی مصر ہے کہ جو ہوا اور جو میں کہہ رہی ہوں اور جو کر رہی ہوں یہی صحیح ہے، واللہ اعلم۔
سوال یہ ہے کہ ایسے آدمی کی عبادت کی کیا حیثیت ہے، جو عبادت کے ساتھ ایسے گناہوں کا بھی مرتکب ہو، اور بجائے توبہ واستغفار کے یہ بھی کہہ رہا ہوکہ میں جو کہہ رہا ہوں یہی ٹھیک ہے، تو ان حالات کے ساتھ اس کی عبادت قبول ہے؟ جواب سے نوازیں۔جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعت مطہرہ نے جہاں عبادات میں فرائض ونوافل کی بجا آوری کی تلقین کرتے ہوئے اس پر اجر وثواب کی نوید سنائی ہے، وہیں گناہوں سے اجتناب برتنے کا حکم دیتے ہوئے اس معاصی کو اختیار کرنے والوں کے لئے عقاب وسزا کی وعید بھی بیان کی ہے، اس لئے ہر انسان کو نیک کاموں کی انجام دہی کے ساتھ برائیوں کے ارتکاب سے بھی بہر صورت بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے، لہذا سائل نے اپنی بیوی کےبہوؤں کے ساتھ جس نامناسب رویہ کا ذکر کیا ہے، وہ اگر واقعۃً مبنی بر حقیقت ہو، تو یہ انتہائی نامناسب طرز عمل ہے، جس پر احادیث طیبہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایسی عبادت گزار، صدقات ونوافل کا اہتمام کرنے والی عورت جس کی بدزبانی وبد اخلاقی سے اس کے متعلقین پریشانی میں مبتلا ہوں، اس کا جہنمی ہونا بیان کیا ہے، اس لئے سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور نامناسب رویہ کو ناصرف فوراً ترک کرے، بلکہ جن لوگوں کو اس کی وجہ سے ایذاء پہنچتی رہی ہے ان سے بصدق دل معافی مانگ کر آئندہ کے لئے پیار ومحبت کے ساتھ اپنے ذمہ دوسروں کے واجب حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے، تاکہ دنیاوی سکون وراحت کے ساتھ اخروی مؤاخذہ سے بھی سبکدوشی ممکن ہوسکے۔
جبکہ سائل نے اپنے بیٹے کی طلاق سےمتعلق الفاظ طلاق کی وضاحت نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل کے بیٹے نے اپنی بیوی کو الفاظ صریح " جیسے طلاق ہے، یا تجھے طلاق دیتاہوں" کے ذریعے تین طلاقیں دی ہوں، اور پھر غیر مقلدین کے فتوی کے مطابق میاں بیوی بغیر حلالہ شرعیہ کے ایک ساتھ رہ رہے ہوں، تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور آئندہ کے لئے اس طرح کے فعل حرام کے ارتکاب سے مکمل اجتناب کریں، تاہم اگر سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اس فعل حرام سے باز نہ آرہے ہوں، تو بغرض اصلاح سائل کا اپنے بیٹے سے قطع تعلقی اختیار کرکے باہمی طورپر میل ملاپ سے مکمل اجتناب کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس قطع تعلقی کی وجہ سے سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مسند احمد ط الرسالۃ: عن أبي هريرة، قال: قال رجل: يا رسول الله، إن فلانة يذكر من كثرة صلاتها، وصيامها، وصدقتها، غير أنها تؤذي جيرانها بلسانها، قال: " هي في النار "، قال: يا رسول الله، فإن فلانة يذكر من قلة صيامها، وصدقتها، وصلاتها، وإنها تصدق بالأثوار من الأقط، ولا تؤذي جيرانها بلسانها، قال: " هي في الجنة" الحدیث (ج15 صـ422 مسند المكثرين من الصحابة ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: لأن مدار أمر الدين على اكتساب الفرائض واجتناب المعاصي، إذ لا فائدة في تحصيل الفضول وتضييع الأصول، وكما هو واقع فيه أكثر العلماء وكثير من الصلحاء، حيث لم يقم الأولون بما يجب عليهم من العمل، ولم يحصل الآخرون ما يجب عليهم من العلم، وأما الصوفية الجامعون بين العلم والعمل المقرونين بالإخلاص، فهم يأدمون رعاية الاحتماء على إعطاء الدواء سالكين سبيل الحكماء فيقولون: التخلية مقدمة على التحلية، ولذا جعلوا التوبة أول منازل السائرين ومقامات الطائرين. وفي كلمه التوحيد إشارة إلى هذا الملف بطريق النفي والإثبات دائما إلى أن الصفاف السلبية مقدمة على النعوتية الثبوتية، فكأنه يلزم من الأولى حصول الثانية بخلاف العكس والله أعلم. (رواه أحمد، والبيهقي في شعب الإيمان) . وكذا البزار، وابن حبان في صحيحه والحاكم، وقال: صحيح الإسناد، وابن أبي شيبة بإسناد صحيح ذكره ميرك.(ج8 صـ3127 باب الشفقة والرحمة على الخلق ط: دار الفکر)۔
وفیھا ایضاً: قال المظهر: هذا وأمثاله مبني على الزجر وألا يسقط عنه فرض الصلاة إذا أداها بشرائطها ولكن ليس ثواب صلاة الفاسق كثواب صلاة الصالح، بل الفسق ينفي كمال الصلاة وغيرها من الطاعات، وقال النووي: إن لكل طاعة اعتبارين: أحدهما سقوط القضاء عن المؤدي، وثانيهما ترتيب حصول الثواب فعبر عن عدم ترتيب الثواب بعدم قبول الصلاة (فإن تاب) أي بالإقلاع والندامة (تاب الله عليه) أي قبل توبته الخ (ج6 صـ2386 باب بيان الخمر ووعيد شاربها ط: دار الفکر)۔
وفی سنن الترمذی بشار: عن أبي الدرداء، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما شيء أثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن، وإن الله ليبغض الفاحش البذيء۔ الحدیث (ج3 صـ430 باب ماجاء فی حسن الخلق ط: دار الغرب الاسلامی)۔
وفی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من خبب امرأة على زوجها، أو عبدا على سيده» الحدیث (ج2 صـ254 باب فيمن خبب امرأة على زوجها ط: العصریۃ)۔
وفی شرح المصابیح لابن الملک: أما إباحة الهجرة في الثلاث فمفهومٌ من الحديث عند مَن يقول بمفهوم المخالفة، وإنما عُفي عنها في الثلاث؛ لأنَّ الآدمي مجبولٌ على سوء الخلق والغضب. قيل: هذا إذا كان الهجر لأمر دنيوي، وأما إذا كان لتقبيح المعصية فالزيادةُ على الثلاث مشروعةٌ، كما هجر - صلى الله عليه وسلم - الثلاثة الذين تخلفوا عن غزوة تبوك، وهم كعب بن مالك وهلال بن أمية ومرارة بن الربيع، وأمر الناس بهجرانهم خمسين يوماً الخ (ج5 صـ320 باب ما يُنهَى من التَّهاجُرِ والتَّقاطُعِ واتباعِ العَوْراتِ ط: ادارۃ الثقافۃ الاسلامیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77969کی تصدیق کریں
0     716
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • والد کااپنی اولادکے مال میں تصرف کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی بچوں پر خرچ کرنےکا ثواب اور فضیلت

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین سے ان کی زندگی میں جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • تین طلاقوں کے بعد ببچے کے حقِ پرورش کی تفصیلات

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • دین پر عمل کرنے والے کے لئےگھر والوں کا نامناسب رویہ اپنانا اور ناراض ہونا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ بیٹی کا خرچہ کس کے ذمہ لازم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • عبادت گزار ہونے کے ساتھ گھر والوں کو اذیت دینے والی ساس کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنے بیٹے کو حرامی کہنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اولاد سے سخت رویہ رکھنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • کیاوالد کا اپنے لین دین کے متعلق اولاد کو بتانا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بچہ کا خرچہ نہ دینے کے بعد بچہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا زمین بیٹوں کو ہدیہ کرکے بیٹیوں کو محروم کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • باپ کا بیٹے کی زمین فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کی تربیت کے خاطر مدرسہ بند کر دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین اور بچوں کی بیماری کی دیکھ بھال نہ کرنااور تبلیغ پر بیرون ملک جانا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین کے برے رویہ پر اولاد کیا کرے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کے درمیان, ہبہ و عطایا میں برابری و عدل کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی کا سوتیلی بیٹی کی پرورش نہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنی انا کی وجہ سے بیٹی کا گھر خراب کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بیٹوں کو جائیداد دینے پر والد مرحوم کی جا ئیداد میں حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو والدین میں سے کسی کے پاس رہنے کا اختیار دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بہن بھائیوں کا خرچہ اٹھانے کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیٹے کے مطالبہ کے باجود والدین کا نکاح میں تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات