السلام علیکم
کیا فرماتے علماءِ کرام اس بارے میں کہ ہم ۴ بھائی اور ہماری ۴ بہنیں ہیں، ہمارے ابا کی عمر ۸۰ سال ہے اور جو بات کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں، ہمارے ابا نے زمین ایک بھائی کو بیچی اور وہ پیسے دوسرے بھائی کو دیے جو کہ وہ اس پیسوں کو مدرسہ میں لگانا چاہتے ہیں، اور باقی بہن بھائیوں کو کچھ نہیں دیا ، زمین ۴۰ لاکھ کی بیچی، جبکہ ایک دوسری پارٹی نے ۵۰ لاکھ لگائے تھے تو کیا جائیداد میں ہمارا حصہ ہے.
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح تصرف کرنا چاہے ،کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے ، بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا درست ہے،لہٰذا سائل کے والد کے ذمہ بھی اپنی مکمل یا بعض جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی سائل اور اسکے بہن بھائیوں میں سے کسی کو جائیداد میں سے حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہے-البتہ سائل کے والد اگر اپنی مرضی وخوشی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے، تو ایسا کرنا بھی شرعاً درست ہے، لیکن یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ،جس کا بہتر طریقہ یہ ہےکہ وہ اس میں سب اولاد کو برابر رکھے , کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے اپنے دوسرے بیٹے کو جو رقم دی ہے ،اگر باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدی ہو ،تو وہ اس رقم کا مالک بن چکا ہے ،اب وہ جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، دوسرے ورثاء کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ، تاہم سائل کے والد کا محض ایک کو رقم دے کر باقی کو بالکل محروم کرنا مناسب نہیں، اس لئے اگر ان کی کوئی اور جائیداد ہو ، تو دیگر اولاد کو بھی حصہ دینا چاہیئے، تاکہ سب میں برابری ہو سکے۔
کما فی ردالمحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر و الأنثى ، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة . و في الخانية و لو وهب شيئا لأولاده في الصحة و أراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين و إن كانوا سواء يكره و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار و إلا سوى بينهم و عليه الفتوى اھ (4/444)۔
و فی الدر المحتار :(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها ،(5/690)۔
و فی مجلۃ الحکام :كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ . لَكِنْ إذَا تَعَلَّقَ حَقُّ الْغَيْرِ بِهِ فَيُمْنَعُ الْمَالِكُ مِنْ تَصَرُّفِهِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِقْلَالِ . اھ(1/230)۔