کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں صالحہ پروین ہوں،میرے شوہر کا نام عظیم الدین ہے،میرے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں،میں اولاد کی نافرمانی اور حصے کے مطالبہ کی وجہ سے شوہر کا گھر(جو کہ حیات ہے)بیچنا چاہتی ہوں،گھر کی قیمت ایک کروڑدس لاکھ روپے ہے،آپ رہنمائی فرمائیں،شرعی اعتبار سے کس کا کتنا حصہ بنتاہے؟
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے،کسی وارث(بیٹی،بیٹے)کا اس کی جائیداد میں شرعاً کوئی حق نہیں ہوتا ،اورنہ ہی وہ تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کرسکتے ہیں،لہذا سائلہ کے بیٹوں کا والدین کو تنگ کرنا اور ان کی حیات میں جائیداد وغیرہ کے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاًجائزنہیں،جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ سائلہ کا شوہر خودہی اپنی مرضی سے کسی بیٹے یا بیٹی کو کچھ دینا چاہے یا کل جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے،اور یہ شرعاً تقسیمِ میراث نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلائے گا،جس کا طریقہ ذیل میں درج ہے۔
سائلہ کا شوہر اگر اپنی مرضی و خوشی سے بلاکسی جبر و اکراہ کے اپنا مال و جائیداد تقیسم کرنا چاہے تو اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ سائلہ کا شوہر محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگرسائلہ کو کچھ دینا چاہےوہ اسے دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنادے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی البحر:و اما بیان الوقت الذی یجری فیہ الارث ،فنقول ھذا فصل اختلف المشائخ فیہ قال مشائخ العراق الارث یثبت فی اٰخر جزء من اجزاء حیاۃ المورث و قال مشائخ بلخ الارث یثبت بعد موت المورث،اھ (8/48)-
و فی الشامیۃ:شروطہ ثلاثۃ:موت مورث حقیقیۃ او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقیۃ او تقدیرا کالحمل و العلم بجھۃ ارثہ اھ (6/105)-
کما فی مشکاۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاماً ، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال : لا قال : «فأرجعه» و في رواية قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261)۔