السلام علیکم! جناب میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں، مگر میں نے حق مہر ادا نہیں کیا، اب کیا میں آدھا آدھا حصہ کر کے حق مہر ادا کر سکتا ہوں یا ایک ساتھ ہی پورا حق مہر ادا کرنا پڑے گا ؟ مطلب اگر اتنی رقم میرے پاس نہیں تو میں آدھا حصہ اپنے حق مہر کا ادا کر سکتا ہوں یا پورا ادا کرنا ہی لازم ہے؟
مہر بیوی کا حق ہے، اور شوہر پر اس کا ادا کرنا شرعاً ضروری ہے، البتہ سائل کے لیے اگر کسی مجبوری کی وجہ سے یکمشت ادا کرنا ممکن نہ ہو ،تو حسبِ استطاعت تھوڑا تھوڑا کر کے مہر ادا کرنا بھی جائز اور درست ہے۔
کما قال الله تعالى: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا۔الآیة ( النساء:4)
وفى الهندية: لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت اھ (1 /318)