سوال یہ ہے کہ میں نے اپنے نکاح کے وقت اپنی بیوی کو نصف مؤجل حق مہر ادا کیا تھا اور نصف ابھی باقی ہے اور اب میری بیوی بریسٹ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئی، کیا اب بھی مجھے یہ حق مہر ادا کرنا پڑے گا؟ اور یہ حق مہر میں کس کو دوں؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
مرحومہ بیوی کا بقیہ مہر اگر بیوی نے اپنی زندگی میں معاف نہ کیا ہو تو وہ سائل کے ذمہ مرحومہ کا دین ہے جو کہ مرحومہ کے دیگر ترکہ میں شامل ہو کر سائل سمیت مرحومہ کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔ (جس کا طریقۂ کار ورثاء کی تفصیل بتاکر معلوم کیا جا سکتا ہے)
کما في الهندية: إذا مات الزوج وقد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج (الى قوله) ولو اتفقت الورثة على عدم تسمية المهر في العقد يقضى بمهر المثل على قول صاحبيه وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي۔اھ (1/ 321)