السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! بیوی کو اگر اس کے لحاظ کردار ،غیر مردوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں اور تعلق کی وجہ سے جن کے ناقابل تردید ثبوت شوہر کے پاس موجود ہوں، کی وجہ سے طلاق دی جائے تو اس صورت میں بھی شریعت کے لحاظ سے بیوی کو پورا مہر واپس کر دینا شوہر کے لیے لازمی ٹھہرتا ہے کیا ؟ واضح رہے کہ مندرجہ بالا طلاق سے پہلے بیوی کو اصلاح اور معافی کے بار بار مواقع بھی دیے گئے ہوں۔ شرعی اور قانونی حوالہ جات کے ساتھ راہ نمائی فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ جزاکم اللہ خیراً
رخصتی اور خلوت صحیحہ کے بعد اگرچہ طلاق بیوی کی کسی غلطی اور کوتاہی کی وجہ سے ہی کیوں نہ دی جائے، لیکن اگر بیوی از خود اپنی دلی رضامندی سے مہر معاف نہ کرلے تو شوہر پر کل مہر کی ادائیگی لازم ہوگی ۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية اھ (3/ 102) والله اعلم بالصواب