السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی میرے ساتھ نہیں رہتی ہے،پچھلے پانچ(5) برس سے،اور وہ میری چچا زاد بھی ہے،مگر اب ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی الگ الگ روم میں ہوتے ہیں،اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ سوچتی ہے کہ کیا اس کی باقی عبادات قبول ہوتی ہیں یا نہیں،کیونکہ وہ میرے حقوق پورے نہیں کررہی ہے اور وہ اگر میرے نکاح میں ہی رہے اور میرے ساتھ ازدواجی طور پر نہ رہے تو کیا اس کو کوئی گناہ ہوگا ؟ کیا اس کی عبادات پر کوئی فرق پڑے گا؟
سائل کی بیوی کا سائل کے ساتھ مذکور رویہ رکھنا اور اس کے حقوق ادا نہ کرنا خصوصاً ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا،ناجائز اور حرام عمل ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے متعلق جو شوہر کے بلانے پر اس کی حاجت پوری نہ کرے ،سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئیں ہیں،لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے مذکور عمل سے باز آئے اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی کرکے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے،ورنہ سائل کی بیوی کی عبادات کا ثواب موقوف رہے گا،جب تک وہ اپنے شوہر کو راضی نہ کرے۔
کما فی مشکوة المصابیح: وعن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ اذا دعی الرجل امرأته الیٰ فراشه فأبت فبات غضبان لعنتھا الملائکة حتیٰ تصبح متفق علیه (ص/280)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وعن أم سلمة قالت: قال رسول اللہﷺ أیما امرأة ماتت وزوجھا) أی: العالم المتقی (عنھا راض، دخلت الجنة) لمراعاتھا حق اللہ وحق عبادہ اھ (7/402)۔
وفی الفتح الباری لابن حجر: (قوله باب اذا باتت المرأة مھاجرة فراش زوجھا) أی بغیر سبب لم یجز لھا ذالک (الیٰ قوله) وللطبرانی من حدیث بن عمر رفعہ ، اثنان لاتجاوز صلاتھما رؤوسھما عبد آبق وامرأة غضب زوجھا حتیٰ ترجع وصححه الحاکم اھ (9/294)۔