السلام عليكم ورحمۃ الله وبرکاتہ!
مجھے آپ کی اس ویب سائٹ کو استعمال کر کے بہت خوشی ہوئی، میں نے فتوی پوچھنا تھا کہ میری شادی کے ایک سال بعد ہی طلاق ہو گئی اور میرے بچے بھی نہیں ہوئے، شادی کے وقت جب حق مہر لکھا گیا تو یہ کہا گیا کہ ہم حق مہر ویسے لکھوا رہے ہیں ہم نے کونسا لینا ہے، تیرہ لاکھ کا حق مہر لکھوا لیا گیا، اب وہ حق مہر کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسلام کی رو سے کیا مجھے حق مہر کی رقم دینی چاہیئے یا نہیں؟
نکاح کے بعد اگر سائل اور اس کی بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا تھا یا دونوں کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہو چکی تھی ، اور اس کے بعد سائل نے بیوی سے مہر معاف کرائے بغیر طلاق دے دی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ مقرر شدہ پورے حق مہر کی ادائیگی لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالى: {وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا}۔الآیة [النساء: 4]
وقال ايضاً: {وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا، وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا}۔الآیة [النساء: 20، 21]