میرا شوہر اتنی کثرت سے ہمبستری کرتا ہے کہ میری شرمگاہ میں سوزش رہتی ہے اور میں ہمیشہ تکلیف میں رہتی ہوں دن رات ہوس پوری کرتا ہے کام بھی نہیں کرنے دیتا کوئی حل بتائیں ڈاکٹر کے روکنے کے باوجود وہ اس فعل سے نہیں رکا۔ اس رمضان میں اس نے سمجھانے کے باوجود روزے نہیں رکھنے دیے اور دن کے وقت بھی ہمبستری کرتا رہا ہے، میرے لیے روزہ کا کیا حکم ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعتا درست ہو ، تو سائلہ کے شوہر کا سائلہ کی صحت اور راحت کا خیال رکھے بغیر کثرت سے ہمبستری کرنا نا مناسب اور غلط ہے، خصوصا جبکہ ڈاکٹروں نے اسے اس سے منع بھی کیا ہو ، پھر رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے دینا تو بہت بڑا گناہ ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے، لہٰذا سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ اپنے طرز عمل پر بصدق دل تو بہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اپنے مذکور عمل سے اجتناب بھی کرے،جبکہ سائلہ نے اگر رمضان المبارک کے روزے صبح ہی سے شروع نا کیے ہو تو ایسی صورت میں صرف جتنے روزے نہیں رکھے ہیں ان کی قضاء کرے۔واللہ اعلم بالصواب