میرے ہونے والے شوہر کا ایک عورت سے جو کہ شادی شدہ ہے ، ناجائز تعلقات تھے ، وہ کہتے ہیں ان کا صرف فون پہ رابطہ ہے ، لیکن میں نے دیکھا ان کی گندی باتیں اور پیکچر ز جو ایک دوسرے کو سینڈ کی ہیں ، اس کے شوہر کو نہیں پتہ، اس کی ایک بیٹی شادی شدہ ہے ، ایک اب نارمل ہے ، اور ایک بیٹا یونیورسٹی میں ہے ، اور خود نمازی ہے ، ان کو میں نے بھی بہت سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ عورت بہت گندی ہے، اپنے ساتھ ساتھ میرے شوہر کی آخرت بھی خراب کر رہی ہے ، لیکن میں نے بہت کوشش کر کے اپنے ہونے والے شوہر سے اس کا پیچھا چھڑوا لیا ہے ، ماشاء اللہ ان کو بہت ساری چیزیں اب سمجھ آرہی ہیں، اور کافی سدھر بھی گیا ہے ، جبکہ وہ عورت کافی عمر میں زیادہ ہے ، میرے ہونے والے شوہر سے یہ چکر دس سال سے ہے، جب وہ خود عمر میں کم تھے، خیر اب تو کافی اللہ ورسول کی باتیں اور حدیث سنا سنا کر راستہ پہ آگئے ہیں ما شاء اللہ ، ورنہ وہ عورت ان کی زندگی میں تھی ، ان کی زندگی میں کوئی کامیابی نہیں تھی، اب اس سے دور ہو گئے ہیں تو ماشاء اللہ کافي چیزیں چینج ہو گئی ہیں، اب وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے 500000 روپے لئے تھے، میں نے کہا یہ دوبئی ہی میں دیدے، لیکن کہتے ہیں کہ جا کر پاکستان میں دونگا، ان سے ملوں گا، شادی کی بھی دعوت دونگا، کیا یہ صحیح ہوگا ؟ جب اس کا شوہر زندہ ہے، بیٹا ہے ، خاندان ہے جو کہ ان کی مدد کرتے ہیں، ہاں کوئی غریب بھی نہیں، بیٹی کی شادی بہت دھوم سے کی تھی، بہت کچھ کرنے والے ہیں، اب کیا جب میرے ہونے والے شوہر نے سب چھوڑ دیا ہے تو کیا یہ دروازہ کھلا رکھنا چاہئیے؟ کیا ایسی عورت سے کوئی رشتہ رکھنا چاہئیے جو شوہر کو دھوکہ دے اور بولے کہ اللہ جانتا ہے کہ یہ رشتہ میں نے کتنی ایمانداری سے نبھایا ہے ؟ پلیز میری زندگی کا سوال ہے ، شادی ہونے والی ہے میری، تو اس کو تفصیل سے بیان کریں قرآن سے کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے دونوں کے لئے اور رشتہ اب ختم ہونا چاہئیے کہ نہیں ؟ اب میری زندگی میں کوئی نہیں، بس یہ ہی ہیں سب کچھ ، مجھے اپنی بیٹی سمجھ کر صحیح راہ دکھائیں۔ جزاک اللہ ۔
واضح ہو کہ کسی اجنبیہ عورت سے بغیر کسی ضرورت کے بے تکلفانہ بات چیت کرنا اور میل جول رکھنا شرعا ًناجائز اور حرام ہے ، لہذا سائلہ کے ہونے والے شوہر کا مذکور شادی شدہ خاتون کے ساتھ میل جول اور دوستانہ تعلقات قائم کرنا شرعاً نا جائز اور حرام عمل ہے، جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہو رہے ہیں، لہذا اب ان پر لازم ہے کہ اپنے کیے پر اللہ تعالی کے حضور بصدق دل تو بہ واستغفار کر کے آئندہ کے لئے ایک دوسرے سے مکمل رابطہ ختم کرنے کا پختہ عزم کر لیں، جبکہ سائلہ کے ہونے والے شوہر نے مذکور عورت سے پانچ لاکھ روپے اگر بطور قرض لیے ہوں تو اسے یہ رقم واپس کرنا تو لازم ہے ، لیکن اگر از خود رقم واپس کرنے میں دوبارہ فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ یا کسی اور کے ہاتھ یا کسی بینک اکاؤنٹ وغیرہ کے ذریعہ وہ رقم واپس کر دینی چاہئیے۔
و في تفسير الجلالين: {قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم} عما لا يحل لهم نظره ومن زائدة {ويحفظوا فروجهم} عما لا يحل لهم فعله بها {ذلك أزكى} أي خير {لهم إن الله خبير بما يصنعون} بالأبصار والفروج فيجازيهم عليه اھ (ص: 462)
و في تفسير الجلالين: {ولا تقربوا الزنى} أبلغ من لا تأتوه {إنه كان فاحشة} قبيحا {وساء} بئس {سبيلا} طريقا هو اھ (ص: 369)۔