اگر خلع ہونے کے بعد عورت کی عدت گزر جائے، اس کے بعد دونوں راضی ہو جائیں نکاح کیلئے ، اس کے بعد حق مہر کی کوئی صورت ہو گی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو کتنی ہونی چاہیئے ؟ کم از کم کتنی ہونی چاہیئے نارمل حساب سے ؟ برائے کرم آپ جواب دیں۔
واضح ہو کہ باہمی رضامندی سے خلع ہو جانے کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو با قاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم اس صورت میں شوہر کو آئندہ فقط دوطلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے، جبکہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم (یعنی 625. 2 تولہ چاندی یا پھر اسکے بقدر رقم ہے) اتنا مہر طے کر کے دیناشر عاً لازم ہے، اس سے کم مہر طے نہیں کی جاسکتی، البتہ اسکی زیادہ سے زیادہ کی کوئی مقدار مقرر نہیں، شوہر کی مالی استطاعت اور عورت کی خاندانی حیثیت کو دیکھتے ہوئے مہر طے کیا
جاسکتا ہے۔
ففي سنن الدارقطني عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَدَاقَ دُونَ عَشَرَةِدراهم» - اھ(4/ 358)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: أو تزوج ثانيا في العدة۔۔۔۔ فيما لو طلقها بائنا بعد الدخول، ثم تزوجها في العدة وجب كمال المهر الثاني بدون الخلوة والدخول اھ(3/102)
وفیه ایضاً : (أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره «لا مهر أقل من عشرة دراهم»۔۔۔(وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر اھ(3/103)
وفی الھدایة:واذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فله ان یتزوجھا فی العدة وبعد انقضائھا اھ(2/257)