السلام علیکم ! آپ سے گزارش یہ تھی کہ: ایک مسئلہ میں آپ سے فتوی لینا تھا۔ میر بیٹے کا نکاح مسماۃ فلانۃ سے ہوا تھا، لیکن 2-5 سال رہنے کے باوجود آپس میں موافقت نہ ہوئی ۔ رخصتی نہیں ہوئی ۔گھر کے بڑوں کی موجودگی میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ: اگر بچے نہیں چاہتے تو اس رشتہ کو ختم کر دیا جائے، لیکن بیٹے نے کہا میں طلاق نہیں دوں گا، منکوحہ خلع لے سکتی ہے، یہ اس کی مرضی ہے، لیکن لڑکی کے گھر والوں نے کہا کہ: ہمیں 3 الفاظ کہہ دیجیے تا کہ ہم کورٹ کے معاملات سے بچ جائیں، اور یہ کہا کہ ہم مہر معاف کرتے ہیں، جس پر ہم نے ان کی یہ بات مانتے ہوئے بیٹے سے زبر دستی 3 الفاظ بلوائے طلاق کے، لیکن اس کے اگلے دن انہوں نے کہا کہ: لڑکی اپنا مہر مانگ رہی ہے۔ یہ اس کا حق ہے جس پر ہم نے یہ کہا کہ: آپ نے جو مطالبہ کیا ہم نے اس بات کو پورا کر دیا، تو اس طرح ہم مہر دینے کے حقدار ہیں یا نہیں، کیونکہ لڑکالڑ کی ملتے رہے ہیں، لڑکی ہمارے گھر آتی تھی، لیکن رخصتی نہیں ہوئی، آپ مجھے بتائیں اس مسئلہ کا کیا حل ہے، کہ ہم اس کے مہر کے حقدار ہیں یا نہیں؟
واضح ہو کہ مہرلڑکی کا حق ہے، اس کی اجازت کے بغیر اولیا ( والدین وغیرہ میں سے کسی کو اس میں تصرف کرنے یا شوہر کو معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں، چنانچہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر لڑکی کے گھر والوں نے لڑکی کی اجازت کے بغیر طلاق کے عوض مہر معاف کر دیا ہو، تو شر عامہر معاف نہیں ہوا، بلکہ طلاق کے بعد شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہے، لہذا اگر نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر آیا ہو کہ جس میں ہمبستری کرنے سے کوئی رکاوٹ نہ ہو (یعنی خلوت صحیحہ ہوئی ہو) تو اب طلاق کی صورت میں شوہر پر پورا حق مہر ادا کر نالازم ہے ، البتہ اگر خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو ،تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ آدھا حق مہر دینا لازم ہو گا۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وليس للأب أن يهب مهر ابنته عند عامة العلماء (إلی قوله) ولنا أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها، وليس لأحد أن يهب ملك الإنسان بغير إذنه؛ ولهذا لا يملك الولي هبة غيره من أموالها فكذا المهر اھ (2/ 290)
و في الدر المختار: (والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل اھ (3/ 114)
وفيه ايضاً: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) اھ (3/ 104)