السلام علیکم
محترم جناب ! میرے والد مرحوم کا پچھلے سال انتقال ہو گیا تھا لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے دوران میری محترمہ والدہ کو مہر ادا نہیں کیا۔
محترم والد صاحب نے ابھی تقریباً 4000 نقدی چھوڑی ہے۔
ہمارا موجودہ گھر میرے مرحوم والد کے نام پر ہے، میں ان کا بڑا بیٹا ہوں، میں اپنے والد کی طرف سے مہر ادا کرنا چاہتا ہوں۔
نکاح نامہ میں مہر کی رقم 50000 کا ذکر ہے , اپریل 1981 میں نکاح ہوا , مجھے موجودہ سال کے مطابق کتنی رقم ادا کرنی چاہیے؟ کیا یہ ٹھیک ہے ؟ ایسا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
سائل کے والد نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوہ نے وہ مہر معاف بھی نہ کیا ہو تو حق مہر کی رقم سائل کے والد کے ذمہ بطور قرض لازم ہے،جب کبھی سائل کے والدکا ترکہ تقسیم ہوگا تو ترکہ کی تقسیم سے قبل حق مہر کی رقم منہا کرنا لازم ہوگا ، جبکہ سائل تقسیمِ ترکہ سے قبل والدہ کا حق مہر ادا کرنا چاہتاہو تو وہ ادا کرسکتاہے،البتہ سائل حق مہر کی رقم بطورِ قرض ادا کررہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ تمام ورثاء کو بتادے تاکہ تقسیمِ ترکہ کے وقت لڑائی جھگڑے کی نوبت پیش نہ آئے،جبکہ حق مہر کی رقم پچاس ہزار ہی ادا کرنا لازم ہے -