السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب ایک درپیش مسئلےسے متعلق رہنمائی درکار ہے، برائے کرم شفقت فرمائیے ،میرے دادا نے میرے والد صاحب کو کاروبار کرنے کے لئے 1988 میں دو لاکھ روپے دیے، ابھی ہم 2 بھائیوں نے اپنے والد صاحب سے کاروبار کے لئے پیسے مانگے ، تو والد صاحب نے جو پیسے دیے ، وہ تھوڑے تھے ، ہم نے کہا کہ 1988 ء میں دو لاکھ کی 7 ایکڑ زمین ملتی تھی ، اور اس وقت 7 ایکڑ زمین تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ کی ملتی ہے ، اس لحاظ سے آپ ہمیں کم از کم 2،2 کروڑ روپے دیں، والد صاحب مان گئے ، اور انہوں نے ہمیں پچھلے سال 2022 میں ایک ایک کروڑ روپے دیے، جون 2023 میں والد صاحب نے ایک ایک کروڑ مزید دینا ہے ، مگر میرا چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ آپ ایک کروڑ لے لیں ، اور میں والد صاحب سے کہوں گا کہ مجھے ایک کروڑ کے بدلے میں ساڑھے تین ایکڑ زمین (جو ایک کروڑ کی بنتی ہے) کے ٹھیکے کی آمدن مجھے دے دیا کریں (ٹھیکے سےتقریباً 7 لاکھ سالانہ آمدن آتی ہے) میں وہ لیتا رہوں گا، جب والد صاحب کی وراثت تقسیم ہو گی تو یہ ساڑھے تین ایکڑ زمین میری ملکیتی ہو جائے گی (میں وراثت میں رکھ لوں گا)، میں نے کہا کہ ایسے نہیں ہوگا ،تجھے وراثت میں ایک کروڑ ملے گا ،کیونکہ ساڑھے تین ایکڑ کا معاملہ زبانی کلامی ہے ،اور ریٹ کو سمجھنے کے لئے ہے، زمین والد صاحب کے نام ہی ہے ،اور انہوں نے کسی بھائی کو ہبہ بھی نہیں کی۔
صورتِ مسئلہ میں: کیا بھائی کا والد صاحب سے ٹھیکہ پر زمین لینا درست ہے؟
ایک بھائی کروڑ لے اور دوسرا ساڑھے تین ایکڑ ٹھیکے کے پیسے لے، کیا یہ درست ہے?
وراثت کی تقسیم کے وقت چھوٹا بھائی پیسوں کے بدلے میں ساڑھے تین ایکڑ زمین رکھ سکتا ہے یا زمین وراثت میں برابر تقسیم ہوگی؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کا اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے-
لہذا سائل کے والد کے ذمہ اپنا مال و جا ئیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں ،اور نہ ہی سائل اور اسکے بھائی کیلئے اپنے والد سے حصہ داری کےمطالبہ کا حق حاصل ہے، البتہ اگر سائل کا والد اپنی بقیہ زندگی کے لئے ایک محتاط انداز ے کے مطابق کچھ مال و جائیداد رکھ کر بقیہ سارا مال و جائیداد یا اس کا کچھ حصہ سائل اور اسکے دوسرے بھائی کو دینا چا ہے، تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہوگا ،مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں ،بلکہ ہبہ اور گفٹ شمار ہوگا ،جس میں بہتر اور افضل یہ ہےکہ سائل کا والد بڑے بیٹے کو جتنی رقم دینا چاہے ، اتنی ہی رقم یا اس مالیت کے بقدر زمین وغیرہ اپنے چھوٹے بیٹے کو بھی دے ،اور ان میں سے ہر ایک کو اس کا حصہ باقاعدہ طور پر بقیہ جائیداد سے الگ کر کے مالکا نہ طور پر ان کے حوالے کیا جائے ، چنانچہ سائل کا والد اگر اپنی مرضی سے سائل کو رقم اور اپنے چھوٹے بیٹے کو اس رقم کی مالیت کے بقدر زمین باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے کر دے ، تو اس سے سائل مذکور رقم کا ،اور سائل کا بھائی اس زمین کا مالک بن جائے گا ، پھرسائل کے والد صاحب کی وفات کے بعد کسی ایک کے حصے میں دوسرے کا کوئی حق نہ ہوگا ، اسی طرح مذکور رقم کو کاروبار میں لگانے یا زمین کو ٹھیکے پر دینے سے منافع یا کرایہ کی صورت میں جو آمدن ہوگی ،ا س میں سے بھی کسی ایک بھائی کا دوسرے کی آمدن میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،تاہم سائل کے والد صاحب کو چاہیئے کہ دونوں بیٹوں کے درمیان برابری رکھے ،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے ، البتہ اگر کسی بیٹے کی مجبوری ، خدمت گاری، یا دینداری وغیرہ کو پیشِ نظر ر کھ کر اسے دوسرے بیٹے کی بہ نسبت کچھ زیادہ حصہ دیدے ،تو اسکی بھی گنجائش ہے،جبکہ سائل کا والد اگر چھوٹے بیٹے کو زمین باقاعدہ مالکانہ طور پر حوالے نہ کرے ، بلکہ زمین کو ٹھیکے پر دینے کی صورت میں حاصل شدہ کراۓ, کی وصولی کابیٹے کو حق دے دے ، تو ایسی صورت میں چھوٹا بیٹا مذکور زمین کا مالک شمار نہ ہوگا ، چنانچہ اس صورت میں سائل کے والدصاحب کی وفات کے بعد مذکور زمین مرحوم کے ترکے میں شامل ہو کر اسکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
کما فی الدر المختار : ( و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،اھ(5691)۔
و فی الشامیۃ : فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا و الوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى ، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة . و في الخانية و لو وهب شيئا لأولاده في الصحة ، و أراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين و إن كانوا سواء يكره و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار و إلا سوى بينهم و عليه الفتوى و قال محمد : و يعطي للذكر ضعف الأنثى۔(4/444)۔