کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہم نے بیٹے کی پانچ ، چھ سال پہلے شادی کی تھی ، حق مہر دو (2) تولہ سونا لکھا تھا ، جس کی قیمت اس وقت ایک لاکھ بیس ہزار روپے تھی ، نکاح نامہ میں لکھا تھا ،چھ سال بعد نوبت طلاق تک آپہنچی ہے ، تو نکاح میں جو ایک لاکھ بیس ہزار روپے لکھا تھا ،وہ دینا پڑے گا؟ یا آج کل سونے کا ریٹ ہے ،وہ دینا پڑے گا ؟جو کہ ایک تو لہ سونے کا ریٹ دو لاکھ سے کچھ اوپر ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں فتوی جاری کردیں ، تاکہ فساد سے بچا جاسکے ، چھ سال پہلے ایک تولہ ساٹھ ہزار کا تھا ،تو دو تولہ ایک لاکھ بیس ہزار ہوگیا ۔
سوال کے ساتھ منسلکہ نکاح نامہ کے حق مہر کے خانہ میں چونکہ دو تولہ سونا لکھا گیا ہے ، اس لئے طلاق کی صورت میں شوہر مسمیٰ راحت گل ولدِ اشرف گل پر مذکور دو تولہ سونا یا آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق دو تولہ سونے کی قیمت ادا کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیة: وفی شرح الطحاوی : المھر لایخلو : اما ان یکون دینا أو عینا و نعنی بالعین : العروض والحیوان والعقار والمکیل والموزون اذا کانا بأعیانھما ونعنی بالدین الدراھم والدنانیر ، أما اذا کان المھر عینا فلیس للزوج أن یدفع الیھا غیرہ اھ (3/85)۔
وفیه أیضاً: واذا تزوجھا علیٰ شیئ مما یکال أو یوزن فسمیٰ منه کیلاً أو وزناً معلوماً من صنف معلوم فلھا ما سمیٰ من ذالک ، وان جاء بقیمته دراھم أو دنانیر لم تجبر المرأۃ علیٰ القبول اھ (3/93)۔