السلام علیکم!
سوال یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں چار سال سے، میرے دو بڑے بھائی ہیں، شادی شدہ ہیں ،اور دونوں الگ ہوتے ہیں اور دونوں میری شادی سے پہلے الگ ہوئے تھے ,والدین میرے ساتھ ہوتے ہیں ، میں سب سے چھوٹا ہوں ، ایک بہن بھی ہے، طلاق یافتہ ہے وہ بھی میرے ساتھ ہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً ایک سال سے میری بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں میں جھگڑا کر لیتی ہے،اور بار ہا الگ ہونے کا کہہ چکی ہے ،اب وہ ناراض ہو کر چلی گئی ہے ،اس بات پر کہ میں الگ رہوں گی، نہیں تو آزاد کر دو ،میں کیسے الگ کروں والدین اور بہن بھی میرے ساتھ ہیں 20ہزار سیلری ہے ، میں الگ الگ برداشت نہیں کر سکتا ،اگر الگ کروں تو والدین کا کیا بنے گا ؟اگر خلع کا دعویٰ کرے تو میں کیا کروں ؟ پلیز رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر اپنی بیوی کو مشترکہ گھر میں ایک ایسا کمرہ اٹیچ باتھ روم وغیرہ کے ساتھ دیا ہوا ہو جس میں وہ اپنا سامان وغیرہ کی حفاظت کرسکتی ہو،تو اس سے رہائش کی ذمہ داری شرعاً پوری ہوجاتی ہے،لہذا سائل کی بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ کرنا جبکہ یہ سائل کی استطاعت سے باہر ہے،شرعاً درست نہیں، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے،تاہم سائل کی بیوی اگر سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر میکے چلی گئی ہو،اور سائل کے بلانے پر بھی نہ آرہی ہو،تو ایسی صورت میں شرعاً وہ ناشزہ کہلائے گی،اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق ناشزہ کا نان نفقہ شوہر پر لازم نہیں،جبکہ سائل اگر اپنی بیوی کو زبانی یا تحریری طور پر طلاق نہ دے ، تو سائل کی بیوی کا عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے سے بھی نکاح ختم نہ ہوگا ،بلکہ بدستور باقی رہے گا،لہذا سائل کی بیوی کو اپنے مذکور طرز عمل سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به اھ(600/3)
وفی الھندیة: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه اھ (545/1) واللہ اعلم