ایک عورت اپنی زندگی میں وصیت لکھتی ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا گھر مسجد کو دے دیا جائے، پھر اسکی زندگی میں اس کے وارث اسے کہتے ہیں کہ ہم ضرورت مند ہیں، یہ مکان ہمیں دیا جائے تو وہ اپنا مکان اپنے وارثوں کو دے سکتی ہے، مسجد سے کاغذات واپس لے سکتی ہے ؟ شکریہ
سائل نے سوال کے ساتھ وصیت نامہ اور دیگر کاغذات ارسال نہیں کیے تاکہ اسے دیکھ کر اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر مذکور عورت نے اپنا گھر اپنی زندگی میں باقاعدہ مسجد کے لئے وقف نہ کیا ہو ، بلکہ اپنی وفات کے بعد مسجد کو دینے کی وصیت کی ہو تو محض وصیت کرنے سے چونکہ مکان مسجد کے لئے وقف نہیں ہوا، بلکہ عورت کی ملکیت میں برقرار ہے اور وصیت کرنے والے کے لئے زندگی میں اپنی وصیت سے رجوع کرنا بھی درست ہے ، لہذا مذکور عورت کے لئے اپنی وصیت سے رجوع کرتے ہوئے مکان کے کاغذات مسجد والوں سے لے کر مکان اپنے ورثاء کو دینا شرعاً جائز اور درست ہے ، نیز مسجد والوں کے لئے بھی اس سلسلہ میں رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہ ہوگا ۔
کما فی الدر المختار: (و لہ)ای للموصی (الرجوع عنہا بقول صریح) او فعل یقطع حق المالک عن الغصب (بان یزیل اسمہ) الخ (ج2 ص658 ط: سعید)-
و فی الہندیۃ: و یصح للموصی الرجوع عن الوصیۃ ثم الرجوع قد یثبت صریحا و قد یثبت دلالۃ الخ (ج6 ص 92)-