کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام
میں محمد بلال حسین ولد غلام حسین کراچی کا رہائشی ہوں،میں نے اپنی سابقہ بیوی شبنم بنت مجاہد خان کو باہمی رضامندی سے تحریر اور زبانی طلاق دے دی،اور طلاق نامہ سے قبل ہم دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوگئی تھی کہ بڑا بیٹا محمد سلمان میرے پاس رہےگا،جبکہ بیٹی سمیہ شبنم کے پاس رہےگی،جس پر ہم دونوں کی رضامندی تھی،اور اس معاہدے میں میری بیوی نے حقِ مہر سے دستبرداری کا بھی اقرار کیا تھا،اب وہ مجھ سے حقِ مہر کا مطالبہ کررہی ہے،اور بچوں کے حوالگی کا بھی مطالبہ کررہی ہے،اب ازروئے شریعت بتائیں کہ ان کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں؟ کیا دستبرداری کے باوجود میں حقِ مہر دینے کا پابند ہوں یا نہیں؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کا آپس کے نکاح کو باہمی رضامندی سے ختم کرکے ایک دوسرے کے حقوق ِ واجبہ سے دستبردار ہونا شرعاً "مبارأۃ " کہلاتا ہے،جس کے بعد میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے سے اپنے معاف کیے ہوئے حق کا مطالبہ نہیں کرسکتا،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مطلقہ نے طلاق لیتے وقت حقِ مہر اور نان ونفقہ سے دستبرداری کا اظہار کرکے سائل سے طلاق لے لی،تو اس کے ساتھ اس کا حقِ مہر اور سابقہ نان ونفقہ دونوں ساقط ہوچکے ہیں،اب اُسے ساقط شدہ حق (حقِ مہر وغیرہ)کےمطالبہ کا اختیار نہیں اور نہ سائل کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہوگی،جبکہ لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک ان کی پرورش کا حق چونکہ والدہ کو حاصل ہے،اس لیے سائل کا لڑکے کو جوکہ پانچ سال کا ہےاپنے پاس رکھنے کی شرط درست نہیں بلکہ شرعاً بچے کی والدہ اسے اپنے تحویل میں لینے کا حق رکھتی ہے،چنانچہ لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال پورے ہونے پر سائل اپنے دونوں بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا حقدار ہوگا،جبکہ اس سلسلہ میں والدہ کو کسی قسم کی رکاوٹ بننا جائز نہ ہوگا۔
وفی الدر المختار: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب الخ (ج3 ص566 کتاب الطلاق،باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء الخ (ج1ص481 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: ولو اختلعت على أن تمسك الولد إلى وقت البلوغ صح وهذا إذا كان أنثى أما في الابن فلا يصح لأنه يحتاج إلى معرفة آداب الرجال والتخلق بأخلاقهم فإذا طال مكثه مع الأم يتخلق بأخلاق النساء وفي ذلك من الفساد ما لا يخفى الخ (ج1 ص490 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: رجل خلع امرأته وبينهما ولد صغير على أن يكون الولد عند الأب سنين معلومة صح الخلع ويبطل الشرط لأن كون الولد الصغير عند الأم حق الولد فلا يبطل بإبطالهما الخ (ج1 ص491کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان الخ (ج1 ص542 کتاب الطلاق،باب الحضانۃ)۔