السلام علیکم، استاد محترم،
میں نے نکاح کیا سعودی عرب سے , لڑکی پاکستان میں ہے، حق مہر میں دو تولہ سونا، پندرہ مرلہ زمین مع مکان و چار دیواری لکھوائی،اب مسلہ یہ ہے کہ زمین میرے نام پر نہیں ہے , الگ مکان اور چاردیواری بھی نہیں ہے، زمین پر کیس چل رہا ہے, جب کیس ختم ہو گا تب زمین میرے نام رجسٹر ہو گی، کیا اب میں رخصتی کرسکتا ہوں حق مہر والی زمین مکان دیے بغیر؟ یا حق مہر دینا لازمی ہے استاد ِمحترم قرآن وسنت سے رہنمائی فرمائیں، بھائیوں اور بزرگوں کے عزت کی خاطر میں نے قبول کیا , اگر انکار کرتا تو سب میرے خلاف ہو جاتے، اب اس معاملے کا کیا حل کریں، بغیرمکمل حق مہر ادا کیے رخصتی کر لوں یا انتظار کروں حق مہر جمع ہونے کا؟ یا آدھا حق مہر ادا کر کے طلاق دے دوں؟ لڑکی والے زیادہ انتظار نہیں کر سکتے ہیں. والسلام
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بطور ِحق مہر ’’دوتولہ سونا اور پندرہ مرلہ زمین بمع مکان وچاردیواری ‘‘جولکھوائی گئی ہے،اسکا معجل (فوری)ہونا طے پایا تھا یایہ مؤجل اور عندالطلب ہے، تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر حق مہر معجل ہونا طے پایا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ فوری طور پر اسکی ادائیگی لازم ہوگی،الایہ کہ بیوی کیطرف سے سائل کو مہلت دی جائے،لیکن اگر حق مہر معجل ہونا طے نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ فی الفور حق مہر کی ادائیگی لازم نہ ہوگی،بلکہ بعد میں بھی اسکی ادائیگی کی جاسکتی ہے،لٰہذااگر حق مہر کا معجل ہونا طے نہ پایا ہو یا بیوی کی طرف سے سائل کومہلت دی جارہی ہو ،تو سائل کو چاہئیے کہ طلاق دیکر اس رشتے کو ختم کرنے کے بجائےرخصتی کا انتظام کرے،اور بعد میں حق مہرکی ادائیگی کیلئے کوشش کرتارہے۔
کمافی مصنف ابن ابی شیبۃ:قال النبیﷺمن نکح امرأۃوھو یرید ان یذھب بمھرھا فھوعنداللہ زان یوم القیٰمۃ (ج۴ص۳۶۰)-
وفی تبیین الحقائق:واما اذانصا علی تعجیل جمیع المھر اوتأجیلہ فھوعلی ما شرطاحتی کان لھا ان تحبس نفسھا الی ان تستوفی ٰکلہ فیما اذاشرطاتعجیل کلہ ولیس لہ ان تحبس نفسھا فیما اذاکان لہ مؤجلا اھ(ج۵ص۴ )-