اگر سسر آپ کو گُھورتا ہو، اور آپ کے معاملات میں مداخلت کرتا ہو، آپ کو طعنہ دیتا ہو، اور تنگ کرتا ہو، اور چپکے سے روم میں آتا ہو، اور آپ سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ضرورت سے زیادہ کام کرواتا ہو، اور اختیار ہو کہ علیحدہ گھر خرید لے قرض پر , جو کم سود پر دستیاب ہے، کیا اس طرح کی شرعاً اجازت ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سسر کا مذکور رویہ نا جائز ہے ، جس سے اسے بہرصورت احتراز لازم ہے، جبکہ سود پر گھر لینا شرعاً جائز نہیں، لہذا سائلہ کو چاہئیے کہ صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر اور ساس کو اصل صورتحال سے آگاہ کردے، تاکہ کسی مناسب طریقہ سے سسر کو مذکور طرزِ عمل سے روکا جاسکے۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ ال عمران آیۃ 130)۔
وفی صحیح مسلم: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»(ج 3 ص 1219 رقم 1598 باب لعن آکل الربا وموکلہ)۔