میں دوسری شادی کیلئے ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں ،ہم ایک پارک میں ملےاور وہاں دو مرد گواہوں کی موجودگی میں حق مہر 5 ہزار روپیہ تعیین کرکے ایجاب و قبول کیا، اب ہمارا نکاح ہو گیاہے ؟
واضح ہو کہ عاقل ،بالغ لڑکا ،لڑکی اگر باہم کفؤ اور برا بر کے خاندان کے ہوں اور اولیاء کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر اپنا نکاح گواہوں کی موجودگی میں مہر مثل کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کی صورت میں کریں تو وہ نکاح شرعاً منعقد ہو جاتا ہے،البتہ اس طرح خفیہ نکاح کرنا نہ صرف شرعاً و اخلاقا نا پسندیدہ ہے ،بلکہ بڑی جسارت اور بے شرمی اور بے حیائی کو فروغ دینے پر مبنی عمل ہے ، ایسا نکاح عموما والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق اور خلع پر منتج ہو جاتا ہے ، اس لئے سائل اور اسکی بیوی کو چاہیئے کہ وہ اس نکاح کو خفیہ رکھنے کے بجائے والدین کو اس سے مطلع کریں اور پھر ان کو اس نکاح پر رضامند کرکے زندگی گزاریں ، تاکہ یہ رشتہ محبت اور مؤدت کے ساتھ پروان چڑھے،جبکہ مذکور نکاح کے وقت مقرر کردہ مہر مبلغ 5 ہزار روپے مہر کی کم از کم مقدار 10 درہم (یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی) کی قیمت سے کم ہے اس لئے اب سائل کے ذمہ دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اسکی قیمت بطورِ مہر ادا کرنا لازم ہوگا ۔
کما فی بدائع الصنائع: أما الأول: فقد اختلف أهل العلم فيه قال عامة العلماء: إن الشهادة شرط جواز النكاح الخ(ج 2 ص 252 )۔
وفی الھدایۃ: قال ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامراتین الخ(کتاب النکاح ۔ج 3 ص 22 ط: انعامیۃ)۔
وفی فتح القدیر: تحت (قوله ولو سمى أقل من عشرة فلها العشرة عندنا. وقال زفر: لها مهر المثل) قياسا على عدم التسمية هكذا تسمية الأقل تسمية لا يصلح مهرا، وتسمية ما لا يصلح مهرا كعدمها، فتسمية الأقل كعدم التسمية، وعدم التسمية فيه مهر المثل، فتسمية الأقل فيه مهر المثل.
وقولنا استحسان، وله وجهان: أحدهما أن العشرة في كونها صداقا لا تتجزأ شرعا، وتسمية بعض ما لا يتجزأ ككله، فهو كما لو تزوج نصفها أو طلق نصف تطليقة حيث ينعقد ويقع طلقة الخ(ج3 ص320 ط:دار الفکر)۔