میری امی کا انتقال ہوگیا ہے،اُن کی خواہش تھی کہ اُن کے بعد اُن کی جائیداد میں جو ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں وہ اُن کی چھوٹی بیٹی کے نام کردیا جائے،اس بات کے گواہ بھی موجود ہیں۔ایسے میں کیا چھوٹی بیٹی حقدار ہے؟ لیکن لکھت پڑھت نہیں ہے۔ رہنمائی فرمائیں
سائلہ کی والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں مذکور سرٹیفکیٹ اگر اپنی چھوٹی بیٹی کو ہبہ کرتے ہوئے، اسے ان سرٹیفکیٹس پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ و تصرف کا اختیار نہ دیا ہو، تو فقط اس خواہش کے اظہار سے چھوٹی بیٹی ان سرٹیفکیٹس کی مالک نہیں بنی، بلکہ یہ بدستور والدہ مرحومہ کی ملکیت رہے ہیں اور اب ان کے انتقال کرجانے کے بعد دیگر ترکہ کی طرح یہ سرٹیفکیٹس بھی مرحومہ کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوں گے، البتہ دیگر تمام ورثاء اگر عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی والدہ مرحومہ کی خواہش کے مطابق مذکور سرٹیفکیٹس مرحومہ کی چھوٹی بیٹی کو دینا چاہیں تو اس کا بھی انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع: «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» (ج۲،ص۹۲۵، ط۔المکتب الاسلامی)۔
و فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690، ط: سعید)۔
و فی الدرالمختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته الخ (ج۶، ص۶۵۵، کتاب الوصایا، ط۔سعید)۔