السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! مجھے یہ جاننا ہے کہ 32.50. پیسے شریعتِ محمدی یہ کہہ کر حق مہر لکھوایا تھا اس دور کے حساب سے ، اس دور کے حساب سے ادا کرے گا تو کتنا حق مہر بنے گا ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہوکہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ( دو تو لہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ) مقرر ہے ، خواہ وہ چاندی کی ڈلی کی صورت میں ہو یا اس کی قیمت کا کوئی سامان ، یا اس کی مالیت کے بقدر رائج کرنسی کی شکل میں کوئی رقم ہو ، اس لئےعقد ِ نکاح کے وقت مقرر کردہ حق مہر کی مالیت دس درھم کے برابر یا اس سے زائد ہونا ضروری ہے ، وقت گزرنے کے ساتھ بعد میں اس کی ویلیو کم ہونے کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ لہذا صورت مسئولہ میں عقدِ نکاح کے وقت مقرر کردہ حق مہر مبلغ 50. 32 کی مارکیٹ ویلیو دس درہم کے بقدر یا اس سے زائد ہو تو ادائیگی کے وقت مذکور عورت اسی کے حق دار ہوگی ، اور ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کرنسی کی ویلیو میں ہونے والی کمی پیشی کا شرعاً اعتبار نہ ہوگا، البتہ اگر عقد کے وقت طے شدہ حق مہر کی مقدار دس درہم سے کم ہو تو اس صورت میں شوہر کے ذمہ مہرِ مثل لازم ہوگا ، جس کی ادائیگی کی صورت یہ ہوگی کہ مذکور عورت کی بہنوں کا مہر یا اس کی ہم عمر پھوپھی زاد یا خالہ زاد کا نکاح کے موقع پر جو حق مہر طے ہوا ہو وہی اس کا حق مہر قرار پائے گا ، اس سے زائد کا مطالبہ کرنے سے احتراز چاہیئے۔
کما فی إعلاء السنن : حد ثنا عمرو بن عبد اللہ الأودی حدثنا وکیع عن عباد بن منصور قال : حدثنا القاسم بن محمد قال :سمعت جابراً رضی اللہ عنہ یقول : قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول : " ولا مھر أقل من عشرۃ " من الحدیث الطویل رواہ أبی حاتم إلخ ( أبواب المھر، باب لا مھر أقل من عشرۃ دراھم، ج 11، ص 80، ط إدارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ )-
و فی الدر المختار : ( أقلہ عشرۃ دراھم ) لحدیث البیھقی و غیرہ (( لا مھر أقل من عشرۃ دراھم )) و روایۃ الأقل تحمل علی المعجل ( فضۃ وزن سبعۃ ) مثاقیل کما فی الزکاۃ ( مضروبۃ کانت أو لا ) إلخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ وزن ) بالرفع صفۃ عشرۃ و بالنصب حال علی تقدیر ذات وزن ط ( قولہ سبعۃ مثاقیل ) ھو أن یکون کل درھم أربعۃ عشر قیراطاً شرنبلالیۃ ( قولہ مضروبۃ کانت أو لا ) فلو سمی عشرۃ تبراً أو عرضاً قیمتہ عشرۃ تبراً لا مضروبۃ صح ، و إنما تشترط المصکوکۃ فی نصاب السرقۃ للقطع تقلیلاً لوجود الحد بحر إلخ ( باب المھر، ج 3، ص 101، سعید )-
و فی الھدایۃ : و لو سمی أقل من عشرۃ فلھا العشرۃ عندنا و قال الزفر مھر المثل لأن تسمیۃ ما لا یصلح مھراً کعدمھا و لنا أن فساد ھذہ التسمیۃ لحق الشرع و قد صار مقضیاً بالعشرۃ فأما ما یرجع إلی حقھا بالعشرۃ لرضاھا بما دونھا و لا معتبر لعدم التسمیۃ لأنھا قد ترضی بالتملیک من غیر عوض تکرماً و لا ترضی فیہ عوض الیسیر إلخ ( باب المھر، ج 2، ص 324، ط رحمانیۃ )-