میری پھوپھی جان کی ابھی قریب ہی میں وفات ہوئی ہے، انہوں نے آخری دنوں میں بیماری کی حالت میں کچھ زیور اپنی بہن یعنی میری دوسری پھوپھی کے پاس رکھوایاتھا، جب میرا انتقال ہوجائے اس کو صدقہ کردینا جس کو انہوں نے ایک پرچے پر بھی لکھا تھا، اور اس کا گواہ میں بھی ہوں، تو اب ان کے انتقال کے بعد ہمیں وہ صدقہ کرنا چاہئے یا ورثاء میں تقسیم کرنا چاہئے،اور ان کے ورثاء جو ہے وہ بہن بھائی ہیں ، کیونکہ ان کی اولاد نہیں تھی، تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
واضح ہوکہ وصیت اگر کسی اجنبی کے حق میں ہو تو ایک تہائی کی حد تک نافذ العمل ہوگی اور اگر مرحوم نے وصیت اپنے کسی وارث کے حق میں کی ہو تو ورثاکی رضامندی سے مشروط ہوگی، اگر وہ اجازت دیں تو وصیت نافذ ہوگی ،ورنہ غیر معتبر قرار پائے گی، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی پھوپھی مرحومہ کے ترکہ میں مذکور زیورات کے علاوہ دیگر اشیاء بھی موجود ہوں، اور ترکہ میں سے کفن دفن کے متوسط مصارف اور واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی کے بعد یہ زیورات بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (3/1) یا اس سے کم مقدار کے ہوں تو ایسی صورت میں ورثاء کے ذمہ وصیت کے مطابق یہ زیورات صدقہ کرنا لازم ہوگا، لیکن اگر مرحومہ کے ترکہ میں مذکور زیورات کے علاوہ اور کچھ موجود نہ ہوتو پھر مذکور زیورات کی ایک تہائی (3/1) کی حد تک صدقہ کرنا ورثاء پر لازم ہوگا، اس سے زیادہ نہیں، البتہ اگر مرحومہ کے تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ باہمی رضامندی اور اتفاق رائے سے مرحومہ کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے تمام زیورات راہ خدا میں صدقہ کردیں تو یہ ان کے لئے اجر وثواب کا باعث ہوگا، تاہم یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے، چنانچہ اگر وہ ایک تہائی سے زیادہ صدقہ کرنے پر راضی نہ ہوں، تو ایسی صورت میں ایک تہائی (3/1) کے علاوہ بقیہ حصہ ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا، جس کا طریقہ کار بوقت ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔