السلام علیکم! سلام کے بعد عرض یہ ہیکہ مسماۃکنیز فاطمہ بنت محمد امین ساکن کوہاٹی محلہ بلدیہ ٹاؤن مکان نمبر 195/1730کراچی غربی ،میرے شوہر عاقب خان ولد سید اعظم نے مجھے طلاق دی ہے ،حق مہر ساٹھ ہزار (60000)روپے اور خاص شرائط میں 5 تولہ سونا معجل لکھا گیا ہے ، اور چار ماہ خرچہ طے کیا گیا تھا ،آنجناب سے بذریعہ درخواست گذارش کی جاتی ہے کہ مجھے طلاق ہوئی ہے ،اور میرے حق کے بارے میں بتایا جائے اور لڑکے والے معجل 5 تولہ سونا دینے کے پابند ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں مجھے آگاہ کیا جائے ۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر پانچ تولہ سونا حق مہر کا حصہ نہ ہو، بلکہ حق مہر فقط ساٹھ (60000)روپے مقرر ہو اور اسکے علاوہ سائل نے بیوی کو پانچ تولہ سونا اور چار ماہ خرچہ دینے کا بھی وعدہ کیا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ سائلہ کے شوہر کے ذمہ حق مہر کے طور پر بیوی کو ساٹھ ہزار (60000)روپے کیساتھ پانچ تولہ سونا اور خرچہ دینا لازم اور ضروری نہیں ، البتہ سائلہ کے شوہر نے چونکہ اپنی بیوی کو پانچ تولہ سونا اور خرچہ دینے کا وعدہ کیا ہے ، اس لئے اگر کوئی عذر نہ ہو تو شوہر کوچاہیئے کہ 5تولہ سونا بیوی کو حوالہ کر کے اس وعدے کی پاسداری کرے، نیز طلاق ہوجانے کی صورت میں دوران عدت کا نان ونفقہ بہر حال شوہر پر لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـئُوْلًا الآیۃ (آیتـ 34 سورۃ بنی اسرائیل)۔
و قال اللہ تعالی: وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً الآیۃ (آیتـ 4 سورۃ النساء)
وفی بدائع الصنائع: أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها الخ (کتاب الطلاق ج 2 صـ290 ط: سعید)۔