میری عمر اٹھائیس سال ہے، شادی کو چار سال ہو گئے ہے، میرے شوہر بہت اچھے ہے،اور بہت اچھے اخلاق کے ہے، انصاف کرنے والے ہے، ابھی کچھ وقت سے میرے والدین بیمار رہنے لگے ہیں، اور میں ان کی خدمت کرنے کیلئے ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں، لیکن میری ساس کا مزاج اتنا اچھا نہیں ہے، وہ ظاہر ی بہت اچھی ہے، لیکن میری کوئی بات کا برا مان کر وہ میری والدہ کو سنا بھی دیتی ہے، ان سے شکایت کرتی ہے، میرے گھر والے میرے سسرال والوں کے معاملات سے دور رہتے ہیں کہ اپنے مسائل خود دیکھ لے،الحمد اللہ سب اچھے ہیں، بس مسئلہ یہ ہے کہ اب اپنے والدین کیلئے مجھ سے صبر نہیں ہوتا، مجھے ان کی کچھ خدمت کرنی ہے، وہ اپنے پاس رکھ کر کر سکتی ہوں، شوہر نے کہاکہ آپ کہوں تو میں دو منزلہ گھر دیکھ لیتا ہوں، آپ والدہ کا کھانا وغیرہ دیکھنا، لیکن جو آپ کا منزل ہوگا آپ کو لانا بھی آسان ہوگااپنےوالدین کو، میرے شوہر خوشی سے اس کا اختیاردے رہا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر اکلوتے ہے، اور سسر بھی نہیں ہے، کیا میں اپنے والدین کیلئے ان کی والدہ کو الگ کرنے والا آپشن منتخب کر سکتی ہوں،یا نہیں؟ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ میری والدہ اکثر بیماری میں میرے پاس آنے کی خواہش رکھتی ہے، لیکن وہ میری ساس کی وجہ سے نہیں آتی، اور میں خود زیادہ نہیں بولتی مہربانی فرمائیں میں کیسے اپنے والدین کی خدمت کا فرض پورا کروں، میں والدہ کے ہاں زیادہ دیر رکنے نہیں جا سکتی، کیونکہ میرے شوہر بیمار ہے،اسے باہر کے کھانا منع کیا گیاہیں، اور اگر میں جاؤں تو ان کی صحت کا مسئلہ ہو جائے گا، اس لئے اپنے والدین کو اپنے پاس بلانے ہی کا حل ہے میرے پاس۔
سائلہ کیلئے اپنی ساس اور خاوند کو الگ کر کے دونوں کے درمیان علیحدگی اختیار نہیں کرنی چاہیئے، بلکہ صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کا شوہر خوشی اور رضامندی کے ساتھ سائلہ کے لیے دو منزلہ مکان اس غرض سے فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت انجام دے سکے،تو اسی کو ہی عمل میں لائے، اور ایک منزل میں خود شوہر اور ساس سمیت رہائش اختیار کریں، جبکہ دوسری منزل میں اپنے والدین کی رہائش کا بندوبست کرے۔