السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر میں بہت لڑائیاں ہیں اور میں پردیس میں زندگی گزار رہا ہوں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں ، زوجہ کا مطالبہ ہے کہ بچوں کے بہترین مستقبل اور اچھی تربیت کے لئے ہمیں راولپنڈی گھر لیکر دیں، مجھے یہاں بہت سی پریشانیاں ہیں، ہر چیز گھر سے ایک کلو میٹر دور ہے، ہمارا گھر پہاڑی پر ہے ،عورت کے لیے اترنا اور چڑھنا بہت مشکل کام ہے،تبھی میں آپ سے مطالبہ کر رہی ہوں ،جب میں نے والدین سے اجازت طلب کی تو والد صاحب نے کہا جہاں چاہو اپنی زندگی گزارو مجھے کوئی اعتراض نہیں، پروالده كا كہنا ہے کہ جیسے میں کہوں گی ویسے تم کرو گے جیسے میں چلاؤں گی ویسے تم چلو گے، اگر میرے طریقوں پر نہیں چلو گے تو ہمارا رشتہ اور جینا مرنا ختم ہے، پر زوجہ رہنے کو تیار نہیں ہے، زوجہ کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ہے ، براہِ مہربانی مجھے مشورہ دیں شریعت کی روشنی میں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے بیوی بچوں اور والدین دونوں کے حقوق میں توازن قائم کرنا لازم و ضروری ہے، لہذا سائل کے لیے گاؤں کی رہائش ترک کر کے بیوی بچوں کے ساتھ راولپنڈی میں سکونت اختیار کرنے کے لیے اگرچہ والدین سے اجازت لینے کی پابندی نہیں ،تاہم اگر والدین بیمار یا بوڑھے ہوں اور ان کی خدمت کے لیے گاؤں میں کوئی اور فرد موجود نہ ہو تو سائل کو چاہیئے کہ وہ تنہا شہر میں رہائش اختیار کرنے کی بجائے والدین کو بھی اپنے ساتھ راولپنڈی شہر منتقل کر لے تاکہ وہ ان کی خدمت کی سعادت سے محروم نہ ہو، لیکن اگر وہ گاؤں کی رہائش چھوڑنے پر آمدہ نہ ہوں اور ان کی خدمت کے لیے کوئی دوسرا فرد بھی گاؤں میں موجود نہ ہو تو اس طرح ان کو بے آسرا چھوڑ کر شہر میں رہائش اختیار کرنا جائز نہیں جس سے گریز کرنا چاہیئے، البتہ اگر ان کی خدمت کے لیے گاؤں میں کوئی موجود ہو اور سائل کے بیوی بچوں کے شہر منتقل ہو جانے سے ان کو حرج لازم نہ آتا ہو تو اس صورت میں ان کی اجازت کے بغیر بھی گاؤں سے شہر رہائش منتقل کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ،ایسا کرنے سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا،تاہم اس کے باوجود والدین سے حسنِ سلوک کرتے ہوئے بقدرِاستطاعت ان کی مالی اعانت اور خدمت کرتےرہنا لازم و ضروری رہےگا۔
کما فی تفسیر القرطبی تحت قوله تعالى: (إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما) خص حالة الكبر لأنها الحالة التي يحتاجان فيها إلى بره لتغير الحال عليهما بالضعف والكبر، فألزم في هذه الحالة من مراعاة أحوالهما أكثر مما ألزمه من قبل، لأنهما في هذه الحالة قد صارا كلا عليه، فيحتاجان أن يلي منهما في الكبر ما كان يحتاج في صغره أن يليا منه، فلذلك خص هذه الحالة بالذكر.الخ( سورۃ بنی اسرائیل،آیۃ 23، ج10،ص 241،ط: دار الکتب المصریۃ)-
وفی احکام القرآن للجصاص:تحت قولہ تعالی(واعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وبالوالدين إحسانا(الی قولہ)فأما التجارات والتصرف فی المباحات التی ليس فيها تعرض للقتل فليس للأبوين منعه منها الخ(سورۃ النسآء،آیۃ 36، ج2، ص 194،ط: سھیل اکیڈمی)-
وفی الھندیۃ: امرأۃ ابت ان تسکن مع ضرتھا او مع احمائھا کامۃ و غیرھا فان کان فی الدار بیوت وفرغ لھا بیتاً وجعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا ان تطلب من لزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الا بیت واحد فلھا ذلک وان قالت لا اسکن مع امتک لیس لھا ذلک الخ (الفصل الثانی فی السکنیٰ ج1 ص 556 ط: ماجدیۃ)-
کما فی الدر المختار : و نفقات الزوجات المختلفۃ مختلفۃ بحالھما (و کذا تجب لھا السکنی فی بیت خال عن اھلہ) سوی طفلہ الذی لا یفھم الجماع و امتہ و امّ ولدہ (واھلھا) ولو ولدھا من غیرہ (بقدر حالھما) کطعام و کسوۃ و بیت منفرد من دار لہ غلق زاد فی الاختیار و العینی و مرافق ، و مفادہ لزوم کنیف و مطبخ ، و ینبغی الافتاء بہ (کفاھا) لحصول المقصود ھدایۃ الخ
و فی الشامیۃ تحت (قولہ و کذا تجب لھا السکنی) ای للزوجۃ السکنی ای الاسکان ، و تقدم ان اسم النفقۃ یعمھا ، لکنہ افردھا لان لھا حکما یخصھا (قولہ خال عن اھلہ) لانھا تتضرر بمشارکۃ غیرھا فیہ ، لانھا لا تأمن علی متاعھا و یمنعھا ذلک من المعاشرۃ مع زوجھا و من الاستمتاع الا ان تختار ذلک لانھا رضیت بانتقاض حقھا ھدایۃ (قولہ و مفادہ لزوم کنیف و مطبخ) ای بیت الخلاء و موضع الطبخ بان یکونا داخل البیت او فی الدار لا یشارکھا فیھما احد من اھل الدار الخ (باب النفقۃ ، ج 3، ص 599، ط : سعید)-
و فی بدائع الصنائع : و لو اراد الزوج ان یسکنھا مع ضرتھا او مع احمائھا کامّ الزوج و اختہ و بنتہ من غیرھا و اقاربہ فابت ذلک علیہ ان یسکنھا فی منزل مفرد لانھن ربما یؤذینھا و یضررن بھا فی المساکنۃ و إباؤھا دلیل الأذی و الضرر و لانہ یحتاج الی ان یجامعھا و یعاشرھا فی ای وقت یتفق و لا یمکنہ ذلک اذا کان معھا ثالث حتی لو کان فی الدار بیوت ففرغ لھا بیتا و جعل لبیتھا غلقا علی حدۃ قالوا انھا لیس لھا ان تطالبہ بیت آخر الخ (فصل و اما شرائط وجوب ھذہ النفقۃ، ج 4، ص 23، ط : سعید)-