السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
میرا نام ضیاالرحمن ہے، میرا تعلق پاکستان مری سے ہے، میری آبائی زمین میں ایک مسجد جو کہ ماشاءاللہ گذشتہ 60 یا 70 سال پرانی ہے، اور آباد ہے، چند سال پہلے ہم بوجھ لینڈ سلائیڈنگ شہید کر کے دوبارہ تعمیر کی، چنانچہ دوبارہ تعمیر کے عمل میں ہم نے مسجد کی بلڈنگ کو دوبارہ نقصان نہ ہو، اس کے نقشے میں چند تبدیلیاں کی ،
( پرانی عمارت )
جس کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ:
شمال کی جانب مسجد کے باتھ روم تھے، جنوب کی جانب مسجد، مشرق کی جانب مدرسہ ،یعنی جب نمازی مغرب قبلہ کی جانب منہ کر کےنماز پڑھتے تھے تو مدرسہ ان کی پیٹھ کی جانب ہوتا تھا ،
(نئی عمارت )
یہ دو منزلہ عمارت تعمیر کی گئی جس میں ہم نے شمال کی جانب پہلی منزل پر اب مدرسہ ،جبکہ جنوب مشرق کی جانب باتھ روم جنوب مغرب کی جانب وضو خانہ، درمیان کی جگہ کو مدرسہ یا طالب علموں کی رہائش اور اوپر والی منزل کو مسجد حال کے طور پر تعمیرکیا،
سوال یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد کے باتھ روم جو کہ سابقہ مدرسے کے آخری حصے میں آرہے ہیں ،جبکہ وضو خانہ سابقہ مسجد کے حال میں آرہا ہے،غلط ہیں، دلیل یہ دی جاتی کہ مسجد والی جگہ کو تبدیل کرنا یا کسی اور پرپز کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ،لہذا سوال یہ ہےکہ مدرسہ یا مسجد کی جگہ کو ہمیں واپس پرانی حالت میں لانا چاہیئے؟
یاد رہے یہ عمارت دوبارہ تعمیر ہو چکی ہے اور اب سال بھر سے زیادہ ہونے کو ہے کہ نماز بھی پڑھی جا رہی ہے،
کیا دوبارہ ترمیم کرنا ہو گا یا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ؟
میں چونکہ نقشہ بنانے اور تعمیری عمل کا مرکزی کردار رہا ہوں ،اس لیے میں ذہنی کوفت کا شکار ہوں کہ کہی کچھ غلط تو نہیں ہو گیا۔
واضح ہوکہ جس جگہ کو ایک مرتبہ مسجد کے لئے وقف کر کے وہاں مسجد تعمیر کی جائے تو وہ تا قیامت مسجد ہی کے حکم میں رہتی ہے، اسے کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا،لہذا مسجد کی پرانی تعمیر میں چونکہ مغربی اور جنوبی جانب مسجد کےلئے خاص تھی ،جبکہ نئی تعمیر میں اسی جانب وضوخانہ اور باتھ روم بنائے گئے ہیں جو کہ شرعاً جائز نہیں ،لہٰذا مسجد،انتظامیہ اورسائل پر لازم ہے کہ مذکورحصہ کو دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کریں اور مدرسہ،وضوخانہ یا بیت الخلاء کےلیے کسی دیگر مناسب جگہ کا انتخاب کریں ۔
کمافي الدر المختار: أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية الخ
وفی الردتحت (قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا بترك اهـ وبه علم أن قوله في النهر، وأما لو تمت المسجدية، ثم أراد هدم ذلك البناء فإنه لا يمكن من ذلك إلخ(کتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد،ج4،ص358،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الخانیة: ولو أن قيم المسجد أراد أن یبنی حوانیت فی حریم المسجد وفناءه قال الفقیه ابو اللیث رحمه اللہ لا یجوز له أن یجعل شیئا من المسجد مسکنا أو مستغلا الخ(کتاب الوقف،باب الرجل یدخل دارہ مسجدا،ج3،ص293،ط:ماجدیۃ)۔