کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مولوی صاحب نے اپنے جمعہ کی تقریر میں کہا کہ بینک ملازمین کی تنخواہ حرام ہے کیونکہ یہ سود سے حاصل ہوتی ہے۔ اب مولوی کی فرمان پر مندرجہ ذیل مسائل کا جواب مدلّل مطلوب ہے (۱) پاکستان میں بینک کے علاوہ دوسرے ملازمین کی تنخواہ بھی حرام ہونا چاہئیے۔ جبکہ وہ بھی سود سے حاصل ہوتی ہے۔ تمام بینکوں کا سربراہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہے ، سارے بینک اسی کے تابع کام کر رہے ہیں، اسٹیٹ بینک تمام بینکوں سے پیسے لے کر ان پر سود کھاتا ہےاور ورلڈ بینک سے قرض لے کر اسے سود دیتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی آمدنی ( انکم) گورنمنٹ کے خزانہ میں منتقل ہوتی ہے۔ گورنمنٹ اپنے خزانہ سے صوبوں کو فنڈز فراہم کرتی ہے۔ انہی میں ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں جس کی بنیاد سود ہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صرف بینک ملازمین ہی کی تنخواہ حرام ہے یا کہ سارے ملازمین کی ؟ بینک ملازمین کی تنخواہ کے علاوہ اگر دوسرے ملازمین کی تنخواہ حلال ہے تو کس دلیل پر ؟
جو لوگ براہِ راست سودی معاملات میں معاون اور سبب بنے ہوئے ہیں (جیسے بنک کے کیشیئر اور منیجر وغیرہ) اسی عمل کے عوض انہیں تنخواہ دی جاتی ہے ، بتصریحِ نصوص شرعیہ اس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں ۔
اور جو لوگ بینک کے علاوہ دیگر سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ملازم ہیں ان کی تنخواہ اولاً تو اس بناء پر ناجائز نہیں کہ وہ براہِ براست سودی معاملات میں معاون اور سبب نہیں ۔ اور ثانیاً اس بناء پر کہ سرکاری خزانہ کے ذرائع آمدن ، صرف بینک سے سود لینا ہی نہیں، بلکہ اس کے علاوہ دیگر ذرائع بھی بہت ہیں ۔ جیسے پی ٹی سی ایل " پی آئی اے پی آئی ایم پاکستان اسٹیل ملز۔پاکستان ریلوے اور دیگر سرکاری املاک کا کرایہ اور عوام سے ٹیکس وغیرہ کی وصولی ۔ اس صورت میں ان ملازمین کو جو تنخواہ دی جاتی ہے اس میں زیادہ حصہ دوسرے ذرائع سے حاصل کردہ ہے۔ جبکہ تھوڑا بنک کا ہے۔ اور اگر یہ مخلوط بھی ہو جائے تو ایسے مخلوط مال کا استعمال جائز اور درست ہے ۔
لہذا بلاوجہ معترض بننے کے بجائے حقیقتِ حال کا جان لینا ضروری امر ہے۔
کمافي الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) ولو أخذ بلا شرط يباح اھ (6/ 55)
وفي حاشية ابن عابدين: وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ (6/ 55)-
وفي الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل كذا في الينابيع اھ (5/ 342) -