ہمارے بڑوں کے سریے کی اپنی دُکانیں ہیں ، ہم پہلے سریہ اُدھار پر خریدتے تھے وہ ہمیں مارکیٹ کے حساب سے 10 روپے فی کلو مہنگا پڑتا تھا، ہم اب سریہ کیش پر لے رہے ہیں جسمیں سے 5 روپے فی کلو کے حساب سے ہم اپنا منافع رکھ رہے ہیں۔ باقی اپنی دکان کو بیچتے ہیں کیا ہم جو 5 روپے فی کلو کے حساب سے منافع رکھ رہے ہیں وہ ہمارے لیے حلال ہے؟
واضح ہو کہ شریعت میں کسی چیز پر نفع کمانے کی کوئی خاص حد مقرّر نہیں، بلکہ شریعت نے اس کو عاقدین ( بائع اور مشتری) کی رضا مندی پر چھوڑا ہے، لہذا سائل کے لئے دھوکہ دہی سے بچتے ہوئے مذکور کاروبار میں اپنا کوئی بھی مناسب منافع رکھنا جائزہے۔
وقال الله تعالی فی التنزیل:ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ [النساء: 29]
وفي سنن ابن ماجه» :عن أنس بن مالك، قال: غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا رسول الله قد غلا السعر فسعر لنا، فقال: «إن الله هو المسعر، القابض الباسط الرازق، إني لأرجو أن ألقى ربي وليس أحد يطلبني بمظلمة في دم ولا مال»(2/ 741 ت عبد الباقي)
وفي الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إذا زاد زيادة لا يتغابن الناس فيها فإني لا أحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين.»(3/ 161)