مفتی صاحبان سے بعض معاملات میں آپ کی رہنمائی درکار ہے،مسجد کے اخراجات سے متعلق:
سوال ۱: مسجد کی کمیٹی کے لیے مسجد کے چندہ سے مسجد کے مکانات کی تعمیر یا مسجد کے مکان میں چندہ لگانا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال ۲: مسجد کمیٹی مزدور سے کام کراتی ہے انھیں چندہ سے مزدوری دینا اور کھانا کھلانا، چائے پلانا وغیرہ جائز ہے یا نہیں ؟
سوال ۳:مسجد کے کام سے آنے والے یا ملنے والوں کو جو چائے یا کھانا کھلایا جائے اس میں کمیٹی کے ممبران کو ان کے ساتھ بیٹھنا پڑے تو وہ بھی کھانے اور چائے میں شامل ہوسکتے ہے یا نہیں ؟
سوال۴: مسجد کمیٹی رمضان میں ختم القرآن کے موقع پر چندہ سے مٹھائی اور کھانے کا انتظام کر سکتی ہے یا نہیں ؟
سوال۵: مسجد کمیٹی کسی کو مسجد کے کام سے بھیجے جیسے کوئی سامان مسجد کا لینے ممبران جائے تو ان کو رکشہ کا کرایا اور کھانا چائے وغیرہ کے پیسے چندہ سے دے سکتے ہے یا نہیں ؟
سوال ۶: مسجد کے کسی کام میں جس کے کرنے پر مزدور مزدوری لیتا ہے اگر مسجد کے کسی نمازی سے کرائے تواسے مزدوری دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
سوال۷: کوئی اگر مسجد کا کام جس کے کرنے میں ہزاروں روپے لگتے ہے اپنے ذمہ لیکر کم پیسے میں کروا کر لے آئے اس پر اپنا کمیشن لے سکتا ہے یا نہیں ؟
سوال۸: جن کام کے کرنے پر دوسرے پیسے لیتے ہے کوئی ممبر کمیٹی یا مسجد کے نمازی اس کام کے کرنے پر کمیشن لے سکتا ہے یا نہیں؟
مسجد کے چندہ کی رقم چونکہ عموماً چندہ دہندگان کی طرف سے مصالح مسجد میں صرف کرنے کی نیت سے ہی دی جاتی ہے جس میں کوئی خاص نیت نہیں ہوتی بلکہ مسجد اور تمام مصالح مسجد میں خرچ کرنے کی نیت ہوتی ہے، لہذا مسجد کے چندہ میں آئی ہوئی رقم سے مسجد کی تعمیر، مزدوروں کی مزدوری، عرف کے مطابق مسجد کے کام سے آنے والوں کی مناسب ضیافت، رکشہ، سواری وغیرہ کا کرایہ مسجد کے دیگر کاموں کی مزدوری اور مسجد کمیٹی کے ممبران سے طے کر کے مسجد کے کسی کام کے کروانے پر عرف کے مطابق کمیشن دینا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ختم القرآن کے موقع پر مٹھائی یا کھانے کا انتظام کرنا چونکہ مصالح مسجد میں داخل نہیں اس لئے مسجد کے چندہ کی رقم سے اس کیلئے انتظام کرنا شرعاً جائز نہیں۔
کما فی الدر المختار : (ویبدا من غلتہ بعمارتہ) ثم ماھو أقرب لعمارتہ کإمام مسجد ومدرس مدرسۃ یعطون بقدر کفایتھم ثم السراج والبساط کذالک الی آخر المصالح وتمامہ فی البحر (وان لم یشترط الوقف) لثبوتہ اقتضاء وتقطع الجھات للعمارۃ ان لم یخف ضرر بین فتح، فان خیف کامام وخطیب وفراش قدموا فیعطی المشروط لھم واما الناظر والکاتب والجابی فإن عملوا زمن العمارۃ فلھم أجرۃ عملھم لا المشروط بحر الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ ویبدأ من غلتہ بعمارتہ) أی قبل الصرف الی المستحقین (الی قولہ) (قولہ ثم ما ھو أقرب لعمارتہ) أی فان انتھت عمارتہ وفضل من الغلۃ شیئ یبدا بما ھو اقرب للعمارۃ وھو العمارۃ المعنویۃ التی ھی قیام شعائرہ الخ (کتاب الوقف،ج4،ص366، ط: سعید)۔
وفی الشامیۃ ایضاً : (فیعطی المشروط لھم) واما الناظر فان کان المشروط لہ من الواقف فھو کاحد المستحقین فاذا قطعوا للعمارۃ قطع الا ان یعمل کالفاعل والبناء ونحوھما فیأخذ قدر اجرتہ وان لم یعمل لا یاخذ شیئا ولھذا قال فی النھر وأفاد فی البحر ان مما یخاف بقطعہ الضرر البین الامام والخطیب فیعطیان المشروط لھما اما المباشر والشاد اذا عملا زمن العمارۃ فانما یستحقان بقدر اجرۃ عملھما لا المشروط، الخ (کتاب الوقف، ج4،ص369، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ : وللمتولی أن یستأجر من یخدم المسجد یکنسہ ونحو ذالک بأجر مثلہ الخ۔
وفیھا ایضآً : والاصح ماقال الامام ظھیر الدین أن الوقف علی عمارۃ المسجد وعلی مصالح المسجد سواء کذا فی فتح القدیر الخ (کتاب الوقف،ج2، ص462، ط: ماجدیۃ)۔
وفی تبیین الحقائق : قال رحمہ اللہ (ویبداً من غلتہ بعمارتہ بلا شرط) لان قصد الواقف صرف الغلۃ دائما ولا یبقی دائما الا بالعمارۃ فیثبت اقتضاء من غیر شرط الخ (کتاب الوقف،ج4،ص266،ط:دارالکتب)۔
وفی البحر الرائق : وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاھرۃ للمسجد الخ (کتاب الوقف،ج5، ص259 ، ط: دارالکتاب)۔