کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شادی کے وقت دولہن کو دولہا والوں کی طرف سے جو تحفے اور کپڑے ، زیور وغیرہ دیے جاتے ہیں اور دولہا جو اپنے ہاتھوں سے بیوی کو تحفہ دیتا ہے، کیا طلاق واقع ہونے کی صورت میں وہ تمام تحائف دولہا واپس لینے کا حق رکھتا ہے یا یہ تمام تحائف جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے دولہن کی ملکیت ہے ؟ اس مسئلہ میں ہماری راہ نمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔ بینوا وتوجروا
واضح ہو کہ دولہا اور اس کے خاندان کی طرف سے دولہن کو شادی کے موقع پر جو کپڑے اور جوتے وغیرہ دیے جاتے ہیں یہ اُسے مالک بنا کر دیے جاتے ہیں اور دولہن ان تمام تحائف کی تنہا مالک ہوتی ہے، جس کی بناء پر شوہر یا کسی اور کو طلاق کے بعد بھی ان کے واپس لینے کا اختیار نہیں، جبکہ ہبہ ہونے نے کیوجہ سے ان سے رجوع کرنے اور واپس لینے کو فقہاءِ کرام نے مکر وہ لکھا ہے اور حدیث مبارک میں ایسے شخص کو ایسے کتے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو (زمین پر) قے کرنے کے بعد دوبارہ اسے چاٹتا ہے جو بلا شبہ قبیح اور ر ذیل حرکت ہے، اس لئے ان تحائف کو واپس لینے سے احتراز چاہیئے۔ اور یہی حکم سونے چاندی کے زیورات کا ہے کہ اگر یہ زیورات اُسے مالک بنا کر دیے گئے تھے تب تو واپسی درست نہیں البتہ اگر محض استعمال کے لئے مستعار دیے ہوں اور اُسے مالک نہ بنایا گیا ہو جیسا کہ اکثر برادریوں میں زیورات ایسی ترتیب کے موافق دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں بوقتِ علیحدگی محض ان زیورات کا واپس لینا دینا جائز اور درست ہے ورنہ نہیں۔
کمافى مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر وابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل للرجل أن يعطي عطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وصححه الترمذي اھ (2/ 910)۔
في الفتاوى الهندية: في الفتاوى الغياثية الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح كذا في التتارخانية اھ (4/ 385)۔
وفي حاشية ابن عابدين: والمعتمد البناء على العرف كما علمت اھ (3/ 157)۔
وفي الدر المختار: (صح الرجوع فيها بعد القبض) أما قبله فلم تتم الهبة (مع انتفاع مانعه) الآتي (وإن كره) الرجوع (تحريما) (5/ 698)۔