نکاح کے بعد آپس میں بات خراب ہونے کی صورت میں ہم دونوں میاں بیوی ایک ساتھ بیٹھے ضرور ہیں اور جب بھی بیٹھے ہیں تو گھر ،کھڑکی اور دروازے کھلے رہتے تھے، اور باہر کھانے پینےبھی گئے ہیں، مگر ہمارا آپس میں میاں بیوی والے کوئی تعلقات قائم نہیں ہوئے، تو ایسی صورت میں حقِ مہركی رقم ادا کرنا ہوگا یا پھر اس میں کوئی کمی بیشى ہو سکتی ہے؟
نوٹ: نکاح نامہ میں مہر کے علاوہ جو ہے اضافی چیزیں لکھی ہوئی ہیں، وہ بھی لازم ہے کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کی بیوی کے درمیان نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو اور اس سے ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اور اس سے قبل سائل اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ عقدِ نکاح کے وقت طے شدہ حقِ مہر میں سے آدھے مہر کی ادائیگی لازم ہوگی، جبکہ دیگر شرائط کے تحت ذکر کردہ ماہانہ رقم مبلغ دس ہزار روپہ سائل پر حسبِ معاہدہ اس کی ادائیگی بھی لازم ہوگی، البتہ زمین کی حوالگی چونکہ رخصتی پر موقوف تھی، اس لیے رخصتی نہ ہونے کی صورت میں اس زمین کا حوالہ کرنا سائل کے ذمہ لازم نہ ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: (وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم)الخ۔ (البقرہ:237)-
وفي الهداية: وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى" لقوله تعالى: {وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى، اه(باب المهر، ج: ١، ص: ١٩٩، مط: دار احياء التراث العلمي)
و فی الفتاوى الهندية: والخلوةالصحیحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أوشرعا اوطبعا، كذا فی فتاوى قاضي خان الخ۔ (ج: 1، ص: 403، ط: المطبعۃ الکبری الامیریہ)-
و فی الدر المختار: يجوز للزوج أن يشترط على نفسه نفقة مخصوصة في عقد النكاح، وهذا الشرط ملزم له ويجب الوفاء به، سواء كانت النفقة أقل أو أكثر من النفقة الشرعية.الخ۔ (ج: 2، ص: 310، ط: دار الكتب العلمية)-