میں اپنے سسرال میں اکیلی بہو ہوں ، شادی کو چھ سال ہوئے ہیں، میرے تین چھوٹے بیٹے ہیں، چار سال ،تین سال اور پانچ مہینے کا ، میرے سسر میرے بیٹوں کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے ہیں، میں کس طرح بچوں کو آوزیں دیکراپنے پاس بلا لیتی ہوں، پچھلی دنوں سسر نے اخلاقیات سے گری ہوئی حرکات گھر میں آنے والے کام والی کرسچن عورت کے ساتھ کی ، ہمارا ا ُوپر نیچے کا گھر ہے، جب یہ حرکت ہوئی ساس میرے ساتھ اُوپر تھی، گھر میں اس سے پہلے بھی بہت ہنگامے ہوئے، میں نے ساس سسر کے ساتھ گزارہ کرنے کی کوشش کی ، اب یہ بات ہو جانے کے بعد میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہوں، اورا ب جو بھی نئی ماسی رکھونگی، اس کے ساتھ بھی ایسا کیا ، تو میں اور میرے بچے بدنام ہو جائینگے، آپ مجھے اسلامی شریعت سے بتائیں کہ کیا ان حالات میں مجھے ساتھ رہنا چاہیے؟ میرے شوہر جو ان کا اکلوتا بیٹا ہے صرف خاموش ہے، سب کچھ جاننے کے بعد، وہ چاہتے ہے کہ کچھ دن خاموش رہے، معاملہ ٹھنڈا ہوجائے اس کے بعد سب نارمل ہوگا۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کا سسر غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب ہورہا ہو، تو اولاً تو سائلہ کو چاہیے کہ اپنے شوہر ساس یا گھر کے معتمد بڑوں کے ذریعے حکمت ودانائی کے ساتھ سسر کو سمجھا نے کی کوشش کرے، تاکہ وہ اپنی مذکور ہ قبیح حرکات سے باز آجائے، اور سابقہ اعمال سے صدق دل کے ساتھ توبہ تائب ہو کر نیکی اور شرافت والی زندگی گزارنے کا عہد کرے، تاہم اگر باجود کوشش کے وہ اپنے چال چلن کو درست کرنے پر آمادہ نہ ہو اور اسے اپنے ان افعال پر کسی قسم کی شرمندگی بھی نہ ہو بلکہ معاملہ کے مزید بگڑنے کا اندیشہ قوی ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کےلئے اپنے شوہر سے الگ رہائش کا مطالبہ کرنے کی گنجائش ہے، مگر بیٹے پر بہر حال اپنے والدین کی خدمت کرنا اور اس کے لئے کوئی سہولت والی ترتیب بنانا لازم ہوگا۔
کما فی رد المحتار: (قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛ لأنها لا تأمن على متاعها (_الی قولہ ) قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار.الخ ( باب النفقۃ، ج: 3، ص: 559- 601، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز وإن أسكنها في منزل ليس معها أحد فشكت إلى القاضي أن الزوج يضر بها، ويؤذيها وسألت القاضي أن يأمره أن يسكنها بين قوم صالحين يعرفون إحسانه وإساءته، فإن علم القاضي أن الأمر كما قالت زجره عن ذلك، ومنعه عن التعدي، وإن لم يعلم ينظر إن كان جيران هذه الدار قوما صالحين أقرها هناك، ولكن يسأل الجيران عن صنعه، فإن ذكروا مثل الذي ذكرت زجره عن ذلك ومنعه عن التعدي في حقها، وإن ذكروا أنه لا يؤذيها فالقاضي يتركها ثمة، وإن لم يكن في جواره من يوثق به، أو كانوا يميلون إلى الزوج فالقاضي يأمر الزوج أن يسكنها في قوم صالحين، ويسأل عن ذلك، ويبني الأمر على خبرهم كذا في المحيط. امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك، وإن قالت: لا أسكن مع أمتك ليس لها ذلك، وكذلك لو قالت: لا أسكن مع أم ولدك كذا في الظهيرية، وبه أفتى برهان الأئمة كذا في الوجيز للكردري.الخ ( الفصل الثانی، ج: 1، ص: 556، ط: ماجدیۃ )۔