السلام علیکم !
میری شادی کو سات سال ہوگئے ہیں ۔شادی کے وقت سسرال والوں نے میرے شوہر کی تعلیم غلط بتائی تھی۔ پھر شادی کے بعد معلوم ہوا کے وہ تو نہ اتنے پڑھے ہوئے ہیں ۔اور نہ ہی کوئی کام کرتے ہیں ۔اور اولاد بھی نہیں ہوسکتی ۔اس کے علاوہ میرے سسرال والوں نے میرے شوہر کو یہ بھی سکھایا ہوا تھا کہ میں نے شادی کے بعد نوکری کرنی ہے ۔اتنے سال تک مجھے ذہنی طور پر پریشان کیا گیا ۔آج میرے سسرال والے اور میرے شوہر اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالتے ہیں ۔اور مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ میرے شوہر شادی کے شروع میں اپنے خاندان والوں کی میرے سامنے بہت برائیاں کرتے تھے ۔جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔آج جب شادی کو اتنے سال گزر گئے ہیں تو وہ اپنے ان ہی رشتے داروں کے آگے پیچھے بھاگتا ہے ۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے میرے شوہر پر اعتماد نہیں رہا ۔مجھے میرے شوہر کی باتیں جھوٹی لگتی ہیں ۔
براہ مہربانی میری راہنمائی فرمائیں میں ایسے حالات میں کیسے اپنے شوہر کی اطاعت کروں ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق لڑکے کا رشتہ کروانے کیلئے اس کے خاندان والوں کا تعلیم کے متعلق غلط بیانی کرنا یا اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرنا تو دھو کہ دہی کی وجہ سے درست نہیں تھا، لیکن اب جب دونوں کا نکاح اور رخصتی بھی ہو چکی ہے تو اب پرانی باتوں کی وجہ سے خاندانوں کا آپس میں تعلقات خراب کرنا مناسب نہیں، اس لئے سائلہ اس کے شوہر اور سسرال والوں کو چاہیئے کہ اب سابقہ باتوں کو بنیاد بناکر اس رشتہ میں مزید مشکلات پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔
جہاں تک شوہر کی اطاعت کا تعلق ہے تو اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ شریعت مطہرہ نے بیوی پر جائز اور مباح ا مور میں اپنے شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کو لازم قرار دیا ہے، لہذا سائلہ پر اپنے شوہر کی جائز اور مباح امور میں ان کی اطاعت کرنا لازم ہے البتہ اگر وہ خلاف شریعت کسی کام کرنے کا حکم دے تو اس میں ان کی اطاعت لازم نہ ہوگی ۔
کما فی صحیح المسلم حدثنا قتيْبة بن سعيد، حدثنا ليث، عنْ عبيد اللهِ، عن نَافعٍ، عنِ ابْن عمرَ، عن النَّبي صلّى الله عليْه وسلّمَ، أَنه قالَ: على الْمرءِ الْمسْلِمِ السمْع والطاعة فيما أحبَ وكره، إلا أَنْ يؤْمر بمعْصية، فإن أمر بمعصية، فلا سمع و لا طاعة الحدیث ( بَاب وجوب طاعة الأمراء في غيرِمعْصية، وَتحْریمها فِي الْمعْصية،کتاب الأمارۃ، ج: 2، ص: 125، ط: قدیمی کتب خانہ )۔